’کیا آج مہنگائی کے دور میں صرف ایک ہزار روپے ماہانہ راشن الاؤنس پر کسی کا گھر چل سکتا ہے؟ یہاں جو ہیلی کاپٹر کھڑے ہیں وہ میرے پیسوں سے خریدے گئے ہیں، میرے جوانوں کا خون بہتا رہا،دو جوان اس لئے شہید ہوئے کہ کوئی بروقت پہنچ نہ سکاآپ کی حکومت مجھے ایک ہزار روپے راشن الاؤنس دیتی ہے، ایک ہزار روپے کی کیا ایک مرغی خریدی جا سکتی ہے؟میں تھانیدار ہوں 94ہزار روپے مجھے ملتے ہیں، میرے پٹرول کا خرچہ، میری گاڑی کا خرچہ کہاں سے پورا ہوگا؟ میں گاڑی کی مد میں 8 لاکھ روپے کا قرض دارہوںتم میرے بڑے ہو، اللّٰہ تم سے میرا پوچھے گا،تمہارے لئے میں نے بنی گالہ میں مار کھائی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کی وجہ سے میں جیل گیا، زمان پارک میں مجھے مارا گیا،اسلام آباد پولیس نے مارا، جیل میں رگڑا گیا، زیادہ سینہ نہیں تان سکتے تو اتنا سینا ہی سہلا دو جتنا ہم نے کیا ہے۔“ دیر پولیس کے ایک تھانیدار نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے اپنا اور خیبرپختونخوا پولیس کا زخمی دل کھول کر رکھ دیا ہے اور وزیراعلیٰ صاحب خاموشی سے اس کی درد بھری باتیں سن کر واپس چلے گئے۔