Writer - Columnist - Analyst

تعارف

محبوب الٰہی بٹ گجرات کے جس محلے میں پیدا ہوئے وہاں کسی بچے کاصحافی بن جانا کوئی بڑی بات نہیں۔گجرات کے پیپل والے کھوہ سے ملحق محلہ کوچہ بندی کے جس گھر میں وہ پیدا ہوئے’اس کے ایک طرف روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ایڈیٹر حنیف خالد اور دوسری طرف روزنامہ مشرق کے فیچر ایڈیٹر ریاض بٹالوی مرحوم کا گھر تھاجبکہ جس اندرون شاہ فیصل گیٹ کے محلے ڈپٹی یار محمد خان میں وہ پروان چڑھے ’وہاں ان کی ہمسائیگی میں اوریا مقبول جان اورنثری نظم کے باوا آدم مبارک احمد بھی مقیم تھے- گوان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے1970 ء میں ہونے والے انتخابات اور1971ء میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران صحافت میں دلچسپی لینی شروع کردی تھی۔ تاہم ان کا پہلا مضمون روزنامہ ”آفتاب“ لاہور میں 12 جولائی 1972ء میں شائع ہوا۔تاہم وہ اس کا کریڈٹ خود لینے کی بجائے اسلامیہ ہائی سکول گجرات میں اپنے استاد چوہدری تصدق حسین کودیتے ہیں جن کی راہنمائی میں انہوں نے خواجہ میر درد کی شاعری پر یہ مضمون لکھاتھا۔ اسی مقام سے ان کی صحافت کا آغاز ہوا۔ 1973 ء میں وہ گجرات کے ہفت روزہ الحدید میں طلباء کے صفحے کے یڈیٹر انچارج اوریا مقبول جان کے معاون کے طور بنے۔ اسی دور میں وہ اپنے والد سیٹھ نورالٰہی بٹ مرحوم کے ہمراہ استاد صحافت آغا شورش کاشمیری مرحوم ؒسے ملاقات کیلئے گئے جو پولیس کے پہرے میں میو ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ یہاں وہ حضرت آغاجی مرحوم کے پاؤں چھو کر ان کی شاگردی میں آئے۔ تاہم چند ماہ بعد آغا جی دنیا سے چل بسے توبعد میں تربیت کے مراحل پروفیسرخالد ہمایوں (ایڈیٹر قومی ڈائجسٹ لاہور) کے ذمہ آ گئی جنہوں نے قلم کی باریکیوں اور ذخیرہ الفاظ کے بہترین استعمال کا فن انہیں سکھایا۔ 77ء میں قومی اخبارات میں لکھنا شروع کیا – بعد میں روزنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ اور ہفت روزہ”بادبان“ میں کام کرتے رہے – یہیں سے انہوں نے صحافت میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ جس کالج یا یونیورسٹی میں پڑھے اس کے مجلہ کے ایڈیٹر رہے۔ زمیندار ڈگری کالج گجرات کے میگزین ”شاہین“ کے ایڈیٹر رہے جبکہ زمیندار سائنس ڈگری کالج گجرات کے میگزین ”شاہباز“ کے تینوں سیکشنوں اردو، انگریز ی اور پنجابی کے چیف ایڈیٹررہے۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو نہ اس سے قبل اور نہ اس کے بعدٹوٹا۔پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ”اخبار جامعہ“ اور ”محور“ کے ساتھ منسلک رہے۔

1985ء میں جرمنی آ گئے اور برلن سے ”ساتھی“ کے نام سے ایک ماہنامہ مجلہ شروع کیا۔ جلد ہی ماہنامہ ”ساتھی“کو سٹٹ گارٹ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”ذوالفقار“ میں ضم کر دیا۔انہیں ”ذوالفقار“ کا چیف ایڈیٹر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اپنی تحریروں میں ضیاء الحق کے مارشل لائی دورکی بے انصافیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ماہنامہ ”ذوالفقار“ نے چند ہی ماہ میں پورے یورپ، امریکہ اور مڈل ایسٹ میں اعلیٰ سطح پر مقبولیت حاصل کرلی۔ 1987ء میں برطانیہ آئے اور روزنامہ ”ملت“لندن سے منسلک ہوئے لیکن ”ملت“کے بند ہونے کے بعد جولائی 1989ء میں صحافت سے عملاً الگ ہو کر لندن چھوڑ کراولڈہم (مانچسٹر)میں آباد ہو گئے۔ تاہم چند ماہ بعد ہی ستمبر 1989 ء میں ان کی خدمات جنگ لندن کیلئے حاصل کر لی گئیں۔ ان کی مانچسٹر میں تعیناتی خود میر خلیل الرحمٰن مرحوم نے کی۔انہیں روزنامہ ”جنگ“ لندن کا لندن سے باہر پہلا رپورٹر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔جہاں انہیں مایہ ناز صحافی ہمراز احسن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور تربیت کے بہت سے مراحل اس دور میں بھی طے ہوئے۔ 1993ء میں روزنامہ”آواز“لندن میں چلے گئے اور انہیں نارتھ ویسٹ کارپورٹر مقرر کیا گیا جہاں انہیں استاد صحافت پروفیسر امین مغل کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ تاہم آواز سفر جاری نہ رکھ سکا تو کچھ عرصہ مانچسٹر سے ہفت روز ہ ”اخبار وطن“ کے نمائندے کے طور پرمنسلک رہے۔اس دوران وہ بی بی سی کی اردو سروس کیلئے فری لانس کام بھی کرتے رہے نیز بی بی سی ٹی وی کے پروگرام ۹۹۹ میں بھی اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیں۔تین ماہ بعد ہی وہ دوبارہ جنگ لندن کے ساتھ منسلک ہو گئے۔

1999ء میں وہ جنگ کے ساتھ مانچسٹر کے ریڈیو ایشین ساؤنڈ میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے منسلک ہوئے۔ تاہم 2001ء میں وہ ریڈیو سے الگ ہو گئے اور مانچسٹر سے شائع ہونے والے ایک اخبار پندرہ روزہ ”آتش“میں حصہ دار ی کر لی۔انہیں پندرہ روزہ ”آتش“ کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا’جہاں انہوں نے”نذرآتش“ کے نام سے ایک کالم لکھنا شروع کیا۔ان کی شمولیت سے ”آتش“ جسے ایک لوکل اخبارکی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنا ممکن نظر نہ آرہا تھا کونیا خون دے کرمحبوب بٹ نے بحیثیت ایڈیٹرنئے سرے سے زندہ کیا اور اپنی دن رات محنت سے اسے ایک اعلیٰ اور معیاری اخبار بنایا۔تاہم یکم اکتوبر 2004ء کو پندرہ روزہ”سپیکر“کے نام سے الگ اخبار شروع کر لیا جس نے پہلے ہی شمارے سے تمام اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر شبانہ روز اس پر محنت کی اورایک سال کے اندر ہی ”سپیکر“ کوپندرہ روزہ سے ایک رنگین ہفت روزہ بنا لیا۔اس کے ساتھ ہی ایک اعلیٰ معیار کا رنگین میگزین ”فیملی فرینڈ“ کے نام سے شروع کیا لیکن چند سال کے بعد اسے بند کر دیاگیا۔وہ مختلف ریڈیوسٹیشنوں اور ٹی وی چینلوں پر پروگرام بھی پیش کرتے ہیں جن میں موسیقی, سیاست اور کمیونٹی کے مسائل پر پروگرام شامل ہیں۔جلد ہی مانچسٹر سے ”سپیکر ریڈیو“ کا آغاز کرنے والے ہیں۔2015 ء میں ہفت روزہ ”سپیکر“ کو روزنامہ ”سپیکر“ کا درجہ ملا اور اب وہ گذشتہ گیارہ سال سے ”سپیکر“ اخبار کو ایک روزنامہ کے طور پر شائع کر رہے ہیں۔ ”سپیکر“ میں کام کرنے والے 32کالم نگار اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے رپورٹر اس کام میں ان کی مدد کرتے ہیں۔جس کی بنیاد پر وہ ”سپیکر“ کو اردو زبان کا اعلیٰ اخبار بناکر دنیا کے سامنے ہر صبح پیش کرتے ہیں۔

2019 ء میں انہوں نے ”سپیکر ریڈیو“ کے نام سے ایک آن لائن ریڈیو بھی قائم کیا مگر کووڈ کے باعث اس کا جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور اسی عارضی طور پر بند کر دیاگیا۔ تاہم انہوں نے 2018 ء میں ”سپیکرٹی وی“ کے نام سے ایک یو ٹیوب ٹی وی چینل بھی قائم کیا جو آج تک بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ان کے ساتھ سپیکر کی ٹیم میں بہت اعلیٰ پائے کے صحافی موجود ہیں۔ محبوب الٰہی بٹ کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بہت سی اصناف پر عبور حاصل ہے۔تحریرکے میدان میں ان کو ایک استاد کا درجہ حاصل ہے۔ان کا کالم ”نذرآتش“ سیاسی و ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہے۔ صحافت کے علاوہ انہوں نے افسانے اور ناول بھی لکھے۔ ان کی سچی کہانیاں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ محبوب بٹ ایک منجھے ہوئے صحافی ہونے کے علاوہ مثبت سوچ کے حامل رائٹر اور دانشور ہیں۔ ریڈیواورٹی وی پرزینٹر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ہر کسی سے منوایا۔سٹیج پر کمپئرنگ میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ موسیقی کے بڑے پروگراموں میں ان کی کمپیئرنگ کو پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔نصرت فتح علی خان ’راحت فتح علی خان ’عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی ’نوراں لال ’سائیں خاور’مراتب علی اوربخشی سلامت قوال کے پروگراموں کی کامیاب کمپئیرنگ کر چکے ہیں۔

ان کی زندگی کے کئی پہلو ہیں جن کا آپس میں کوئی بظاہرتعلق نظر نہیں آتا لیکن وہ ہر کسی میں یکتا ہی نظر آتے ہیں اورانہیں ہر شعبے میں استاد کادرجہ حاصل ہے۔ انہوں نے پہلے بی ایس سی کی تو ماسٹر پنجابی میں کیا۔ پیشہ صحافت کا اپنایا اور شوق موسیقی کوپالا۔مانچسٹرمیٹروپولیٹن یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی لیکن قانون کا پیشہ اختیار کرنے کی بجائے صحافت کے پیشے سے منسلک رہنا ہی بہتر سمجھا – تین دفعہ پاکستانی صحافیوں کی انجمن پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن برطانیہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ مقامی سطح پر پیشہ ور صحافیوں کی انجمن کے قیام کے حامی ہیں لیکن ہمیشہ یہ شرط رکھتے ہیں کہ ایسی کسی بھی تنظیم میں صرف پیشہ ور صحافی شامل ہوں گے۔ وہ پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے منتخب صدر رہے اوران کی کوششوں سے پریس کلب آف پاکستان یوکے کو پہلی دفعہ مستقل آئین ملا۔ پریس کلب آف پاکستان یوکے کے زیراہتمام انہوں نے صحافیوں کی بہبودکیلئے بہت سے پراجیکٹس شروع کروائے۔صحافیوں کیلئے ٹریننگ کورسز ’میٹ دی پریس’قومی دنوں اور عیدین ’کرسمس’ایسٹر ’ماہ رمضان میں ا فطاری کے ذریعے وہ صحافیوں کا کمیونٹی کے ساتھ رشتہ مضبوط کرتے ہیں۔ وہ صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔صحافی اور صحافت کے پیشے کے تقدس پر کوئی لچک نہیں رکھتے لیکن نام نہاد صحافیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔

افسانے ’ناول ’کالم نگاری اور دیگر اصناف تحریر میں وہ عظیم رائٹر وحشی مارہروری کے مقلد ہیں۔ ایک موقع پر اشفاق احمد (زاویے والے) نے ان کے ایک افسانے ”چوری“ کو پڑھ کر کہا تھا:”منڈیا تو ایداں ای لخدا رئیا تے اک دن منشی تے منٹو نوں مات کر جائیں گا“(بیٹااگر تم اسی طرح لکھتے رہے تو ایک دن منشی پریم چند اور سعادت حسن منٹو کو مات کر جاؤ گے)۔بقول محبوب بٹ کے اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی اوراشفاق صاحب کے کہے ہوئے اس جملے نے ان کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اور انہوں نے اس میدان میں خوب محنت کی۔ ہر بڑے استاد سے سیکھا اور سیکھنے کا یہ عمل آج تک جاری ہے۔ انہوں نے زیادہ تر سچی کہانیاں ہی لکھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سچی کہانیاں لکھنے کا یہ رجحان وحشی مارہروری کے اس قول سے پیدا ہو اجس میں وہ کہتے ہیں:”مجھے کہانی لکھنے کیلئے کہیں جانا نہیں پڑتا بلکہ کہانیاں میرے اردگرد موجود ہوتی ہیں۔ میں انہی میں سے کسی کہانی کا انتخاب کر کے اسے قرطاس پر منتقل کر دیتا ہوں۔ چونکہ یہ کہانیاں لوگوں کی اپنی ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ مقبول ہو جاتی ہیں“۔ محبوب کے نزدیک ان کی کہانیوں کی مقبولیت کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہ بھی اپنے اردگرد کی کہانیوں کو ہی لکھتے ہیں۔

اس وقت تک محبوب الٰہی بٹ کی 16 تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جن میں: ”نذرآتش۔ مقابل ہے آئینہ۔ سپیشل آفر۔ صدائے دروں۔ قندمکرر۔ سنگ گراں کالموں کی کتابیں جبکہ سچی کہانیوں کے 3 مجموعے ”پہلا پتھر۔ پہلی گولی۔ ہڈی“۔4 ناول:”چوری۔ پناہ۔ درختوں پر نوٹ۔ ائرپورٹ سے ائرپورٹ تک“۔ سفر ناموں پر مشتمل ایک کتاب:”شوق آوارگی“ اور عمرہ پر ایک سفرنامہ ”سعادت“ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آٹھ کتابیں ابھی طباعت کے مراحل میں ہیں جن میں مانچسٹر کے ایک بزنس مین حاجی عبدالغفور مرحوم کی سوانح عمری پر کتاب کے لوگ بہت منتظر ہیں۔

آج کل محبوب الٰہی بٹ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں مقیم ہیں اوربظاہر تو ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں مگر شاید وہ کبھی ریٹائر نہ ہوسکیں۔ کیونکہ بقول ان کے وہ خود کو مصروف رکھتے ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنی قانون کی تعلیم کی روشنی میں ضرورت مندوں کو مفت قانونی مشورے بھی دیتے ہیں اوراکثر کہتے ہیں کہ قانون کی تعلیم میں نے پیسہ کمانے کیلئے نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی مدد کیلئے حاصل کی تھی۔ وقت کی کمی کا احساس توانہیں بہت ہوتا ہے۔تاہم وہ اپنے ہر کام کیلئے وقت ضرور نکال لیتے ہیں۔ ہر وقت دوستوں کاہجوم اپنے گرد رکھتے ہیں۔جن پر وہ جان چھڑکتے ہیں اور دوست ان پر جان چھڑکتے ہیں۔انسان ہونے کے ناطے ”ترقی پسند“ ہیں اورنسل پرستی اور فسطائیت کے سخت مخالف ہیں۔وہ نسل پرستی کی مخالف تحریکوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔کلاس سسٹم پر بالکل یقین نہیں رکھتے اورزندگی میں مصنوعی پن نہیں رکھتے۔اس عمر میں بھی صحت مند ہیں اورسماجی تحریکوں کا حصہ بنتے ہیں۔

کتابیں