اسلامی نظام کی ضرورت ہے یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔تحریر:محبوب الٰہی بٹ

بھولے کو برطانیہ آئے ہوئے تقریباً 50 سال ہو چکے ہیں۔ بھولا بہت چھوٹا تھا جب وہ برطانیہ آیا اوراس کے آنے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ وہ پاکستان میں اپنے خاندان کی غربت دور کرے۔ جونہی غربت دور ہو جائے تو وہ پاکستان واپس چلا جائے اور وہیں پر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر کے عزت کی روٹی کمائے۔ اپنے وطن میں رہے ’ماں باپ کی خدمت کرے اور بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرے۔ مگر بھولے کا یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔یہاں بھولے نے خوب محنت کی اور خوب پیسہ کماکر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بھیجا۔جس سے ان کی غربت تو دور ہو گئی مگر بھولا خود کبھی بھی خوشحال نہ ہو سکا کیونکہ وہ جوکماتا’وہ پاکستان اپنے بہن بھائیوں کو بھیج دیتا۔جب تک ماں باپ زندہ رہے ’بھولا باقاعدگی سے پاکستان جاتا اور اس کی ماں اس کے صدقے واری جاتی۔ بھولے نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنی بہنوں اوربھائیوں کی شادیاں کروائیں۔اس پر اس کے ماں باپ اس پر بہت راضی ہوئے اور اسے بڑی دعائیں دیتے رہے۔ جب کسی بہن یا بھائی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو بھولے کو ”نانک والی“ کے حوالے سے پہلے ہی مطلع کر دیا جاتا اور بھولا اپنی بساط کے مطابق بہنوں کو بچوں کی پیدائش پر ”نانک والی“ کیلئے پیسے بھیجتا رہتا۔اسی طرح جب کسی بھابھی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوتی تو بھی بھائیوں کو پیسے بھیجتا۔بھولااس بات پر اللہ کاشکر ادا کرتا تھا کہ اس نے بہنوں اور بھائیوں کی شادیاں کر کے نہ صرف ماں باپ کا بوجھ اتارا ہے بلکہ اس بات پر بھی خوش تھا کہ کم از کم اس کے بہن بھائی عزت کی روٹی کھا رہے ہیں۔
پھر ایک وقت ایساآیا کہ بھولے کے ماں اور باپ دنیا سے چلے گئے۔ بھولا دونوں کی موت کے وقت پاکستان میں موجود تھا اوراس نے اعلیٰ سے اعلیٰ ڈاکٹروں سے ماں باپ کا علاج کروایا مگر موت برحق ہے اور وہ دونوں علاج کی تمام تر اعلیٰ سہولتیں ہونے کے باوجود نہ بچ سکے۔اس کے بعد بات بھولے کی بھابھیوں پر آئی تو اس نے محسوس کیا کہ وہ جتنے دن بھی پاکستان میں رہا ’اس کی بھابھیوں نے اسے نہ وقت پر کھانا دیا اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال کی۔بھولا اس پر بہت کڑھتا اور روتا بھی۔خاص طور پر والدہ کی وفات پر بھولا کہتا ہے کہ میں نے خود اپنی اماں کو قبر میں اتارا مگر مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میری اماں جیسی مقدس ہستی مر بھی سکتی ہے۔ تاہم اماں کی وفات کے چار دن بعد اس کی بھابھی نے اسے روٹی دی۔ جب روٹی اٹھا کر دیکھ تو وہ سوکھی تھی جبکہ بھولے کواس کی اماں ہمیشہ گھی سے چپڑی ہوئی روٹی دیتی تھی۔ بھولے کے بقول سوکھی روٹی دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئیں ’اوراس نے بین کرنے شروع کردئیے:”لوکواج میری اماں مر گئی جے“۔ لوگوں نے سمجھایا کہ تمہاری اماں توچار دن ہوئے مر چکی ہے۔ اس نے کہا:”نہیں لوگومجھے یقین نہیں کہ میری اماں چار دن پہلے مری ہے بلکہ وہ آج ہی مری ہے“۔ لوگ پوچھتے رہے مگر بھولے نے اس ڈر سے کسی کو کچھ نہ بتایا کہ کہیں بھابھی ناراض نہ ہوجائے۔خیر بھولا ٹوٹے دل سے واپس آگیا۔
پھر بھولے کے اپنے بھی چار بچے ہوگئے توان کے اخراجات پورے کرنے میں ہی اس کی کمائی خرچ ہو جاتی اور بھولا مزید پیسے پاکستان بھیجنے سے قاصر تھا۔ بھولا گذشتہ تیس سال پاکستان نہیں گیا۔ آخر جب اسے علم ہوا کہ اس کو برطانیہ آئے ہوئے پچاس سال ہو گئے ہیں تو بھولے کا دل چاہا کہ کیوں ناں پاکستان کا چکر لگا آؤں۔ایک تو ماں باپ کی قبروں کی زیارت بھی ہوجائے گی اور دوسرا بہن بھائیوں سے مل بھی لوں گا۔ چنانچہ بھولا پاکستان چلا گیا۔یہاں اس ساری کہانی کو بائی پاس کیا جاتا ہے کہ اس کے بہن بھائی اوران کے بچے بھولے کو کیسے ملے۔ تاہم بھولا ایک دن اپنے بھانجے کے ساتھ بازار گیا تووہاں ایک جلوس کی وجہ سے سڑکیں بند تھیں۔ چنانچہ انہوں نے موٹر سائیکل ایک واقف دوکاندار کی دوکان پر چھوڑا او رپیدل چلنے لگے۔ بھولا یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جلوس کے شرکاء بپھرے ہوئے ہیں اور خوب جوش سے نعرے لگار ہے ہیں: ”اسلامی نظام نافذ کرو“۔ ”نظام مصطفی نافذ کرو“۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایک مولوی کی تقریراس قدر جوشیلی تھی کہ لوگ جوش میں آکر اردگرد کی دوکانوں کو آگ لگانے لگے۔ لوگ چیخ وپکار کررہے تھے کہ ان کی دوکانوں کو آگ نہ لگاؤ مگر ہجوم میں شامل لوگوں کی اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ہر کوئی دوکانوں اور املاک کو نذرآتش کرتے ہوئے یہی نعرہ لگارہا تھا:”اسلامی نظام نافذکرو“۔ بھولا اس بات پرحیران ہوا اور اس نے کوشش کی کہ لوگوں کو سمجھائے مگراس کا بھانجا انتہائی ”عقلمند“ تھا کہ اس نے بھولے کو ہجوم کے قریب نہ جانے دیا اوراسے تقریباً گھسیٹا ہوا ’جلوس سے آگے لے گیا۔
آگے بھولے کے کچھ پرانے یار مل گئے اور بھولا ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ باتوں میں زیادہ تر موضوع وہ جلوس اور اس کے شرکاء تھے۔ بھولے نے پوچھا:”یہ لوگ دوکانوں اور املاک کو آگ کیوں لگا رہے ہیں“۔ اس کے ایک دوست نے جواب دیا کہ یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہاں اسلامی نظام شریعت نافذ کیا جائے۔ بھولے نے پوچھا تو کیا املاک اور کاروباروں کو آگ لگانے سے اسلامی نظام نافذ ہوگیا ہے؟ اس پر اس کے دوست ہنسنے لگے۔ تاہم بھولے نے سنجیدگی سے کہا کہ کسی ملک کا آئین بنانا یااس میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ’اس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے یا آگ لگانے والوں نے کرنا ہے؟ لوگ بھولے کے قائل ہو تے جارہے تھے۔بھولا ان سے کہہ رہا تھا کہ بہتر تو یہ ہے کہ آپ ایسے نمائندے منتخب کریں جو پارلیمنٹ میں جا کر شریعت پر مبنی قانون بنائیں جو پاکستان میں رائج بھی ہو۔ اس طرح تو آپ دیواروں کو ٹکریں ہی مار رہے ہیں ناں۔اس پر بھولے کے دوست نے کہا کہ بھائی جب بھی مولوی صاحب نے حکومت یا انتظامیہ کو بلیک میل کرنا ہوتا ہے وہ جوشیلی تقریر کر کے لوگوں کو جوش دلاتے ہیں اور پھر چند روز میں مولوی صاحب کے مطالبات مان لئے جاتے ہیں توحالات پھر سے معمول کے مطابق ہو جاتے ہیں۔ پھر کوئی نہ پوچھتا ہے کہ کہ مولانا کیا اسلامی نظام نافذ ہو گیا ہے۔ نہ ہی کوئی اس معاملے میں تعرض کرنا ضروری سمجھتا ہے اورنہ ہی کسی کی جرات ہے کہ وہ مولوی صاحب سے ایسا کوئی سوال کر کے خود پر ہی کفر کا فتویٰ لگوا لے۔کچھ مزید باتیں ہوئیں اور بھولا یہ سمجھنے لگا کہ اس نے لوگوں کو قائل کر لیا ہے کہ وہ اب املاک کو آگ نہیں لگائیں گے بلکہ جمہوری طریقے سے ملک کا آئین اسلامی بنائیں گے۔ بھولے کے دوست نے اصرار کے باوجود اسے چائے پلائی جس میں چینی بہت تیز تھی۔ بھولے نے کہا کہ یار اس میں چینی ہے اورمجھے شوگر ہے۔ لہٰذا میں یہ چائے نہیں پی سکتا۔ تاہم اس کے بار نے کہا:”مولاعلی دا ناں لے کے اندر سٹ۔ شوگرنوں کج نئیں ہووے گا“۔ تاہم بھولے نے پھر بھی اصرار کیا تو بھولے کے یار نے بغیر چینی کے چائے کا آرڈر دے دیا۔ ابھی وہ بیٹھے باتیں کر ہی رہے تھے کہ جلوس اس طرف بھی آ پہنچا۔ مولوی صاحب اب بھی ٹرک پر کھڑے جوشیلی تقریر کر رہے تھے۔ مولوی صاحب کی تقریراس قدر جوشیلی تھی کہ وہی مجمع جو بھولے کی باتوں کا قائل ہو چکاتھا۔ اس میں سے کئی لوگ اٹھے اورانہوں نے بھی جا کر دوکانوں کوآگ لگانی شروع کر دی۔ بھولا اس پر حیران بھی ہوا اور اسے مایوسی بھی بڑی ہوئی۔ اس نے بس اتنا کہا:”نہ قصور مولوی کا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کو اسلامی نظام چاہئیے بلکہ یہ ایک سٹریسڈ قوم ہے ’جو اپنی سٹریس دور کرنے کیلئے ایسی حرکات کرتی ہے“۔ بھولا اجازت لے گھر آگیا اور سوچنے لگا کہ کیا اس قوم کو واقعی اسلامی نظام کی ضرورت ہے؟