ریاست جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے

گذشتہ شمارے میں ”نذرآتش“ میں ہم نے یہ واضح کیا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اور جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموں وکشمیرمیں باقاعدہ رائے شماری نہیں ہوتی ’ تب تک ریاست نہ ہی پاکستان کا حصہ ہے اور نہ ہی بھارت کا ۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی کہ نہیں” کشمیر پاکستان کی شہ رگ “ہے اور حضرت قائد اعظم ؒ نے کشمیر کے بارے میں یہ کہا اور وہ کہا ۔ ۔کئی احباب کا خیال ہے کہ کشمیری باشندے خود پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے تھے ۔اس پر سوال پھر رائے شماری کا ہی آیا کہ کیا آپ نے رائے شماری کے ذریعے ان سے پوچھا بھی ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ہمارے چند دوست اس بات پر مضر رہے کہ کشمیر کے معاملے میں انگریز نے زیادتی کی ورنہ کشمیر تو ازل سے ہی پاکستان کا حصہ ہے ۔اس کا جواب یہ تھا کہ کشمیر تو انگریز کی عملداری میں تھا ہی نہیں بلکہ اکتوبر1947ءتک توکشمیرایک آزاد اور خود مختار ریاست تھی ۔ جس کا اپنا سکہ ’ اپنا پوسٹ کا نظام ’ اپنی عدالتیں اور اپنی پولیس تھی ۔ کئی لوگوں کا استدلال تھا کہ پاکستان نے کشمیرکیلئے بھارت کے ساتھ بہت سی جنگیں لڑی ہیں ۔ جواب میں بھولا جو خود ایک نسلی کشمیر ہے ’ نے کہا کہ پاکستان کو کس نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کیلئے بھارت کے ساتھ جنگیں لڑے ؟ کیا کشمیریوں نے یہ جنگیں لڑنے کوکہا تھا ؟کشمیری تو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر آرام وسکون سے رہ رہے تھے ’ ان دونوں ملکوں کی مداخلت سے وہ ایسے تقسیم ہوئے کہ آج تک اکٹھے نہیں ہوسکے ۔دوسری طرف اللہ رکھی کا مﺅقف یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوﺅں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے ۔مساجد میں گھوڑے باندھے ہوئے ہیں اورمسلمانوں پر مذہبی پابندیاں ہیں ۔ اللہ رکھی نے اس طرح کے مزید فضول پروپیگنڈے کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا اور کشمیر کو پاکستان کا لازمی جزو قراردیا ۔اس پر بھولے نے غصے کے ساتھ اللہ رکھی کو جواب دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 85 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ’ انہیں سات یا آٹھ فیصد ہندوﺅں نے کس طرح غلام بنا کر رکھا ہوا ہے ؟کوئی مائی کا لال یہ جرات کر سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی کسی مسجد میں گھوڑے باندھے یا مسلمانوں پر کوئی مذہبی پابندی لگائے ؟بھولے کا اصرار ہے کہ کشمیر میں ہندو او رمسلمان کی کوئی لڑائی نہیں بلکہ یہ جنگ کشمیری قوم اوربھارت کے درمیان ہے ۔ اگر یہ ہندو مسلم جنگ ہوتی تو پھر شیخ عبداللہ ’مفتی سعید اور ان کے بہت سے مسلمان کشمیری حامی بھارت کے حق میں کیوں ہیں ؟ اور بھیم سنگھ ’ پریم ناتھ بزاز’ ہردے ناتھ وانچو اور دیگر ریاستی ہندو سیاستدان بھارت کے خلاف کیوں ہیں ؟

بھولا اپنے مﺅقف پر کل بھی قائم تھا اور آج بھی قائم ہے۔ تاہم بھولے کا مﺅقف اس وقت مضبوط ہوتانظرآیا جب راچڈیل سے ممتاز صحافی اعتزاز عاصم نے ایک مضمون لکھ کر بھیجا (یہ مضمون آج کے اخبار میں شامل ہے )۔ اس مضمون میں اعتزاز عاصم نے امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ دورے کے موقع پر ریاست جموں وکشمیر کو ”بھارت کا حصہ “ قرار دینے پر پاکستان کے احتجاج کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیاہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں مقیم امریکہ کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے تحریری احتجاج کیا ہے نیزپاکستان نے امریکی سفیر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہونا چاہیے۔ اسلام آباد نے یہ بھی کہا کہ امریکی سفیر کا بیان واشنگٹن کے کشمیر سے متعلق سابقہ مو¿قف سے مطابقت نہیں رکھتا۔یقینا یہ بیان پڑھ کر بہت سے ایسے لوگوں کی طبیعت صاف ہوجائے گی جو ”سپیکر“ کے صفحات پر لکھے جانے والے مواد پر اعتراضات کرتے ہیں ۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ”سپیکر“ میں جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے ’ وہ درست ریکارڈ کے طور پر لکھا جاتا ہے اوراس کے حوالے سے بہت سے تحقیق ہوتی ہے ۔ اخبار میں کسی موضوع پر مضمون لکھنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔

اگر سنجیدگی سے دیکھاجائے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ڈھنڈورہ توہر کوئی پیٹتا ہے مگر کسی کو معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے کیا ؟ گو جموں کشمیر کی آزادی کے حوالے سے خود مختار کشمیر کا تیسرا آپشن اس وقت سب سے مضبوط ہے مگر ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ریاست جموں وکشمیر ایک خودمختار ریاست ہے بلکہ ریاست اس وقت دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت کے مبینہ قبضے میں ہے۔ ان آپشنز پر اختلافات اپنی جگہ ’ مگر یہ بات بہرحال حقیقت ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاست میں ہونے والے ریفرنڈم کے ساتھ ہی مشروط ہے ۔تب تک بھارت یا پاکستان کوئی بھی ریاست جموں وکشمیر پر اپنا حق نہیں جتا سکتا ۔

1996 ءمیں مجاہد اول سردارعبدالقیوم خان پاکستان سے امریکہ جارہے تھے ۔ راستے میں مانچسٹر ائرپورٹ پر ان کا ایک رات کا قیام تھا ۔ یہاں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے راہنماﺅں نے مجاہد اول کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا ’ان کے خطاب کے بعد سوال وجواب کی نشست ہوئی تومیں نے سوال کیا کہ مجاہداول آپ اورآپ کی جماعت کے سارے راہنما یہ مطالبہ تو کرتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو مگر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تو یہ واضح ہے کہ ریاست میں رائے شماری سے قبل پاکستان کی فوج کشمیر پر اپنا قبضہ چھوڑ دے گی ۔بھارت کی فوج پوری ریاست پر قبضہ کر ے گی اور ریفرنڈم بھارتی فوج کے زیراثر ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی فوج کے کنٹرول میں ہونے والا ریفرنڈم کشمیریوں کو قبول ہو گا؟ اس پر مسلم کانفرنس کے کچھ کارکن زیر لب بڑبڑانے لگے کہ ایسا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے ہی نہیں ۔ مجاہد اول کسی حد تک اس سوال پر پریشان ہوگئے ۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تو وہی بات لکھی گئی تھی جو میں نے بیان کر دی ۔ تاہم انہوں نے جواب دیا کہ بھارتی افواج کے زیرکنٹرول ریفرنڈم کی تجویز 1948ءتک محدود تھا ۔ آج اگر ریفرنڈم کی بات ہوتی ہے تو ہمیں یہ قابل قبول نہیں ہو گااور وقت کے ساتھ ہماری ترجیحات بھی بدل گئی ہیں ۔اب ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ ریفرنڈم سے قبل پاکستان اور بھارت دونوں کی افواج ریاست سے نکل جائیں ۔ ان کی جگہ اقوام متحدہ کی امن فوج لے لے اور یہ ریفرنڈم اسی کے زیرکنٹرول ہو ۔ اس کے بعد مجاہد اول نے اپنی جماعت کے راہنماﺅں کو کوسنا شروع کر دیا کہ تمہیں تو یہ معلوم ہی نہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں لکھا کیا گیا ہے اورمسئلہ کشمیر اصل میں ہے کیا ؟ یہ جانے بغیر ہر شخص یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے ۔ خدا کیلئے پہلے مسئلہ کشمیر کا علم حاصل کرو اوراس بات کا علم حاصل کروکہ اقوام متحدہ کی جن قراردادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل پر تم لوگ بہت زور دیتے ہو ’ میں لکھا کیاگیا ہے ۔ اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی تبلیغ کرو۔مجاہد اول نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہوئی ہے کہ بہت سے لوگ اس کو سمجھے بغیر ہی اس کے حل پر زور دیتے ہیں ۔مجاہد اول کی بات بالکل درست تھی کیونکہ آج ہر پاکستانی نے اپنے طور پرایک مسئلہ کشمیر گھڑ لیا ہے اور بس اس پر تبلیغ کئے جا رہا ہے ’ یہ سوچے بغیر کے اس کی تبلیغ سے پاکستان کے مﺅقف کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا ۔

ہمارے نزدیک برادر اعتزاز عاصم نے آج کے شمارے میں کشمیر کی اس حقیقت کے حوالے سے مضمون لکھ کر ان لوگوں کے منہ بند کروا دئیے ہیں ’جو مسئلہ کشمیر کی ”الف“ اور” ب“ بھی نہیں جانتے اور چلے ہیں کشمیرکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کروانے ۔ہم آج بھی اپنے اس مﺅقف پر قائم ہیں کہ ریاست جموں وکشمیرکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے جو ریفرنڈم کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ۔ تب تک نہ ہی کشمیر کسی کا ”اٹوٹ انگ“ ہے اور نہ ہی کسی کی ”شہ رگ “ ہے ۔بلکہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔ جہاں ہر کشمیر ی کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وطن کے حوالے سے کسی طرف بھی ووٹ دے۔ خواہ وہ بھار ت کے ساتھ مل جائے یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرے یا پھر وہ آزاداور خودمختار ملک کے طور پر اپنی ریاست کو قائم رکھنے کافیصلہ کرلیں ۔ یہ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کے اقوام سے متعلق چارٹر میںمسئلہ جموں وکشمیر کے معاملے میں کشمیری قوم کو ”غیرمشروط“ اور ”لامحدود“ حق خود اختیاری حاصل ہے ۔ ہم اس معاملے میں امریکی سفیر کے مﺅقف کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ’ جنہوں نے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا ہے اور اس معاملے میں پاکستان کے مﺅقف کی حمائت کرتے ہیں جس میں واضح کیاگیا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔ہم اقوام عالم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو اس ڈگر پر لائیں کہ وہ کشمیر میں ریفرنڈم کروا کر کشمیری قوم کو یہ موقع دیں کہ وہ اپنے وطن کے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں ۔ریفرنڈم میں جو بھی فیصلہ ہو اسے من و عن تسلیم کیا جائے ۔