اوریا مقبول جان

ممتاز دانشور‘ کالم نگار سینئر صحافی

شعلہ جوالہ

”نذرآتش“ میں شامل کالموں کا نمونہ میرے سامنے ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اس پر کیا لکھوں کیونکہ کتاب کامصنف محبوب الٰہی بٹ نہ صرف میرا بچپن کا دوست ہے بلکہ حق تعالیٰ نے اس کو بہت سی خوبیوں سے بھی نوازا ہے -محبوب بہت چھوٹی عمر سے ہی میرا دوست بلکہ ”لنگوٹیا“ ہے – وہ میرے ساتھ نہ صرف محبت کرتا ہے بلکہ اس نے ہر وہ کام کیا یا کرنے کی کوشش کی جو میں نے کیا – نعت خوانی،افسانہ نگاری، تقریرو خطابت، صحافت، شاعری – – – غرض کوئی ایسا کام نہیں جو میں نے کیا اور محبوب نے نہ کیا ہو- -بلکہ اس نے تو فن موسیقی میں بھی کمال حاصل کیا ہے –
محبوب بچپن سے ہی بہت ذہین ہے اور اس نے یاداشت بھی کمال کی پائی ہے جس نے عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی تحریر کے فن کو چار چاند لگائے – بچپن میں ہم گجرات کے محلہ ڈپٹی یارمحمد خان کی گلیوں میں کھیل کودکر ہی لڑکپن کو پہنچے – کئی دفعہ دوستوں میں لڑائی ہو تی تو گروپنگ ہو جاتی- پھر دونوں گروپ تھڑوں پرآمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو چھیڑتے اور آوازے کستے – ایسی کسی بھی لڑائی میں محبوب ہمیشہ میرے گروپ میں ہی ہوتا – وہ عمر میں مجھ سے کافی چھوٹا ہے – مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1971ء کی پا ک بھارت جنگ میں جب میں رضاکاروں کی وردی پہن کر شہری دفاع کے لئے کام کر رہا ہوتا تو محبوب بھی ایک سیٹی لے کر میرے ساتھ شامل ہوتا – گو اس وقت محبوب کی عمر اتنی نہ تھی کہ اس کو شہری دفاع کے رضاکار کے طور پر بھرتی کیا جاتا لیکن وہ وطن سے محبت کے جذبے کا ایک دریا اپنے اندر رکھتاتھا- میرے ساتھ اپنی محبت کا اظہار وہ اسی طرح کرتا کہ وہ بھی دشمن کے جہازوں کی آمد پر میرے ساتھ چوکنا ہوجاتا- کئی دفعہ سرگوشی میں پوچھتا ”اوریا بھائی کیا مجھے نشان حیدر مل سکتا ہے؟“ تو میں اس کے بچپنے پرہنس دیتا-
محبوب کا ذوق مطالعہ بہت چھوٹی عمر میں ہی بہت اعلیٰ پائے کا تھا – وہ سکول کے دور میں اکثر مجھ سے تقریریں لکھواتا اورتقریری مقابلوں میں ہمیشہ پہلا یا دوسرا انعام حاصل کرتا – تاہم سکول کی عمر میں ہی میں نے شیخ ظہور احمد صاحب کے مشورے پر اسے تحقیق کا مشورہ دیا کہ تقریریں لکھوانے کی بجائے تقریر کے موضوع پر خود مطالعہ کرے اور حاصل مطالعہ کو”تقریری جامہ“ پہنائے- میری اوربردار جاوید اقبال رانا مرحوم کی راہنمائی میں اس نے یہ مرحلہ بھی آسانی سے طے کر لیا -پھر تو وہ جیسے اس میدان کی ”موٹر وے“ پر دوڑنے لگااور ایک اعلیٰ پائے کا مقرر بنا-کالج کے دور میں اس نے پورے پنجاب میں انٹر کالجیٹ مباحثوں میں کئی سال تک اپنی دھاک بٹھائے رکھی- یہی حال اس کی تحریروں کا بھی تھا – ہفت روزہ ”الحدید“ گجرات میں اس کی تحریروں کی ایڈیٹنگ میں ہی کرتا تھا- خبربنانے میں اس کی مہارت اور مقررین کی تقریر کے ایک ایک پہلو کو نمایاں کرناایک ایسی خوبی تحریر تھی جس سے بڑے بڑے ناموں والے صحافی انگشت بدنداں ہوجاتے – اس کی خبر کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اکثر تقاریب میں وہ مقررین کی تقریروں کے نوٹس لیتا جو خبر بنانے میں اس کے کام آتے – وہ ہر کام بڑی ذمہ داری اورمہارت سے کرتا تھا -اسی وجہ سے میں چاہتا تھا کہ محبوب کی تربیت شروع سے ہی اس انداز سے ہو کہ وہ صحافت، افسانہ نگاری اور دیگر اصناف سخن میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرے – میں اسے جب پہلی دفعہ حلقہ ارباب ذوق گجرات کے تنقیدی اجلاس میں لے کر گیا تو اس وقت اس کی عمر محض پندرہ سال تھی لیکن تنقیدی اجلاس سے واپس آتے ہوئے اس نے جو سوال اٹھائے اس نے مجھے کسی حد تک حیران بھی کیا –
میں جب پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھاتو محبوب اکثر بغیر اطلاع مجھے اوربردار جاوید اقبال رانا مرحوم کو ملنے لاہورآ جاتا – کئی دفعہ وہ چند گھنٹے رہ کر واپس گجرات چلا جاتا اورکئی دفعہ دو تین روز تک ہمارے پاس ہوسٹل میں رہتا – اس دوران ہم لاہور کی ادبی محافل میں بھی اکٹھے جاتے -وہ مجھے پورے گجرات کی خبریں بھی سناتااور اپنی لکھی ہوئی کچھ تحریریں بھی دکھاتاجن کی میں اصلاح بھی کرتا اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا- تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے بلوچستان یونیورسٹی میں لیکچرر کی جاب مل گئی توپھر محبوب کے ساتھ ملاقاتیں کم ہو گئیں – تاہم میرے بعد وہ خالد ہمایوں صاحب کی باقاعدہ شاگردی میں آگیا جبکہ اسے آفتاب مفتی شعلہ سمیت کئی دانشوروں کی صحبت میں بیٹھنے کاموقع ملا جس سے اس کی تحریر کی خوبیاں اور صلاحتیں مزیدکھلتی گئیں -وہ اخبارات کے علاوہ اپنی صحافتی اور ادبی صلاحیتوں کی وجہ سے زمیندار کالج گجرات اور سائنس کالج گجرات کے ادبی مجلوں کا مدیر اعلیٰ رہا-
محبوب کے ساتھ میری ملاقاتوں میں تیس سال تعطل رہا کیونکہ وہ برطانیہ ہجرت کر گیا تھا- آج مجھے تیس سال پہلے والے محبوب کے کالموں کو دیکھ کرحیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہو رہی کہ اس نے میری ان نیک خواہشات کی تکمیل کی جن کا خواب میں نے 1974 ء میں دیکھا تھا – میں خود ایک کالم نگار ہوں اور دوسروں کے کالم بھی پڑھتا ہوں – میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر کالم نگار کسی ایک ہی سٹائل سے لکھتے ہیں – کوئی داستان گوہے تو کوئی مزاح نگار، کسی کی تحریرمیں ضرورت سے کچھ زیادہ سنجیدہ موضوعات ہیں تو کسی میں سیاسی رواداری کی بہتات، کوئی سیاست کی تحریروں سے باہر نہیں نکلتا تو کوئی معاشرتی برائیوں کی دلدل میں نہیں پھنسنا چاہتا، کوئی دائیں بازو کا دلدادہ ہے تو کسی کو بائیں بازو کی سیاست میں ہی مسائل کا حل نظر آتا ہے – اکثر کالم نگار اپنی سیاسی وابستگیوں ا ور اپنی سوچ کے حصار سے باہر نہیں نکلتے جبکہ کئی ایک تو مخالف نظریات کو برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں لیکن محبوب کے کالموں میں سیاست سے لے کر معاشرت تک، فلم سے لے کرادب وفن تک، مذہب سے لے کراوورسیز پاکستانیوں کے مسائل تک – –ہر انداز اور ہر موضوع شامل ہے – – – اس کے ہاں طنز و مزاح بھی ہے اور سنجیدہ موضوعات بھی – وہ قاری کو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے – اس کی تحریریں پڑھنے والوں کوپریشانیوں سے نجات بھی دلاتی ہیں اور انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبوربھی کر دیتی ہیں – – -اس کے ہاں ہر موضوع پر تحریریں موجود ہیں – اس نے ہر سمندر میں غوطہ زنی کی – وہ بیک وقت داستان گو بھی ہے، محقق بھی ہے، ادیب بھی ہے، شاعر بھی ہے، ادب پرتنقید بھی لکھتا ہے اور کتابوں پر تبصرے بھی، سیاست کی آلودگیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتا ہے تویورپی معاشرے میں اپنے ہم وطنوں کو اعلیٰ مقام پرپہنچنے کے طریقے بھی بتاتا ہے -قاری کو گھما پھرا کر اصل منزل پر پہنچا دیتا ہے – کہیں اپنے غصے کا اظہار بھی بے باکی سے کرتا ہے لیکن احترام کی کیفیت سے باہر بھی نکلتا- اس کے کالم ”فداحسین بھائی مجھے معاف کردو“ میں وہ مخاطب کے ساتھ اپنی دوستی اور محبت کی پوری داستان بیان کرتے ہوئے اس کے ساتھ شکائت بھی کچھ اس طرح سادگی کے ساتھ کرتا ہے کہ اس کی محبت کا بھرم بھی نہیں ٹوٹتا –
محبوب کے کالموں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے سادگی سے کام لیتا ہے – اس کے سادہ الفاظ آسانی سے قاری کی سمجھ میں آ جاتے ہیں – زبان سلیس اورپرتاثیر ہے – تاہم اس کا یہ کہنا کہ ”میں الفاظ کا محتاج ہوں الفاظ میرے محتاج نہیں“ بذات خود ایک عاجزی کی کیفیت ہے – یقینا جس پیڑ پر پھل لگتے ہیں وہ جھک جاتا ہے – محبوب اردو ادب وفن اور صحافت میں ایک ایسا ہی پیڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ پھل لگایا ہے- اپنے کالم ”میرے دادا جان کی مسلم لیگ“ میں اس نے بھولے کا کردار پیدا کیا جو بعد میں اس کے کالموں کا مستقل کردار رہا – اس کردار کے ذریعے محبوب نے طنز اور مزاح کا اعلیٰ معیار پیدا کیا جس نے اس کے کالموں کو چار چاند لگا ئے – ”مشرف بھائی توبہ کر لیں“میں جیسا ناصحانہ اندازاپنایاگیا ہے وہ بہت کم کالم نگاروں کی تحریروں میں ملتا ہے -پھر ”گلشن کے پھول“ میں تو وہ جس رقت سے اپنے جذبات کااظہار کرتا ہے اس پر قاری کے آنسو نکل آتے ہیں – تاہم ”ٹیگ اور ان فرینڈ“ میں وہ دور جدید میں انٹرنیٹ، فیس بک اور واٹس ایپ کے استعمال کے منفی پہلوؤں کو بھی بڑے مزاحیہ انداز میں آڑے ہاتھوں لیتا ہے – پھر وہ کیمرہ بردار صحافیوں کے معاشرتی کردار کو جس طرح سے ”مشق تنقید“ بناتا ہے اس پر تو یقینا داد اس کا حق بن جاتی ہے – وہ اپنے کالم ”مئیر اور لارڈ مئیر“ میں اپنی قوم کے سادہ لوح لوگوں کو باور کرواتا ہے کہ ”تم ناحق شیشے چن چن کر دامن میں سجائے بیٹھے ہو- – – شیشیوں کا مسیحا کوئی نہیں کیوں آس لگائے بیٹھے ہو“- محبوب کاہر کالم اپنے اندر ایک تاریخ اور ایک تحریک لئے ہوئے ہے – غرض میرے محبوب کا ہر کالم ”شعلہ ئجوالہ“ ہے – ”اللہ کرے زور قلم اور زیادہ“