ایڈیٹر قومی ڈائجسٹ لاہور /سابق پروفیسر پنجاب یونیورسٹی شعبہ پنجابی
صحافت کی ٹیکسٹ بک
عام طور پر کسی چیز کے بارے میں رائے قائم کرنے کیلئے نمونہ ہی دیکھاجاتا ہے – باورچی دیگ کے چند دانے ٹٹول کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ چاول پک چکے ہیں یا نہیں – تاہم محبوب الٰہی بٹ کی کتاب ”نذرآتش“ جب میرے سامنے آئی تو محبوب کے استاد کی حیثیت سے میں نے نمونے کی بجائے پوری کتاب پڑھ کر تبصرہ لکھنے کا فیصلہ کیا – دانشوروں کے مطابق اپنی کتاب مصنف کیلئے اولاد کا درجہ رکھتی ہے جبکہ استاد باپ کا مقام رکھتا ہے -اس سے بھی انکار نہیں کہ انسان کو بیٹوں سے زیادہ پوتوں کے ساتھ پیار ہوتا ہے – اگر ”نذرآتش“کو محبوب الٰہی کی اولاد اور شاگرد کو بیٹا مان لیا جائے تومحبوب کے کالموں کی پہلی کتاب پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس نے معاشرے کی جو تصویر کھینچی وہ میرے لئے بھی باعث فخر ہے –
محبوب کے ساتھ میرا رشتہ بہت گہرا ہے – وہ محبت کرنے والا شخص ہے – وہ میرے علاوہ ان کے ساتھ بھی محبت کرتا ہے جو میرے ساتھ محبت کرتے ہیں – وہ میرا شاگرد ضرور ہے لیکن خودصحافت، ادب اور موسیقی میں سینکڑوں کا استاد ہے – تاہم اس مقام پر پہنچ کر بھی وہ خود کو الفاظ کا محتاج سمجھتا ہے -وہ مزاج اور اطوار کے لحاظ سے ایک پھلدوار درخت کی طرح ہے جس کی شاخیں پھل لگنے سے جھک جاتی ہیں – احترام اور عاجزی اس کی شخصیت کی اضافی خوبیاں ہیں – وہ مجھ سے آج بھی اسی والہانہ پن کے ساتھ ملتا ہے جیسے پچاس سال پہلے ملتا تھا – تاہم تحریر کے میدان میں اس نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دئے ہیں وہ واضح کرتے ہیں کہ میرے محبوب نے لکھنے سے زیادہ پڑھا ہے جس نے اس کی سوچ اورفن میں پختگی پیدا کی ہے – دنیا کا ہروہ ادب اور ہر وہ تحریر جس تک محبوب کو رسائی ہوئی اس نے اس کے مطالعہ میں سستی نہیں دکھائی – مختلف ملکوں میں رہ کر اس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی بھی پیا اور وہاں کی معاشرت کا مطالعہ بھی کیا جو اس کی تحریروں میں واضح ہے –
پینتالیس سال پہلے محبوب الٰہی اور مقبول الٰہی نام کے دو ننھے منے بچے مجھے اسلامی جمعیت طلباء گجرات کے ایک اجتماع میں ملے – جمعیت کے ایک سٹڈی سرکل میں میں نے محسوس کیا کہ محبوب مطالعہ میں دلچسپی رکھتا تھا – بات کو غور سے سنتا اورپھر اس پر سوال پوچھتا -وہ علم کی پیاس بجھانے اکثر میرے پاس آنے لگا- وہ میرے گھر کو اپنا گھر سمجھتا – میری والدہ کو اماں جی اور میرے بڑے بھائی کو لالہ جی کہہ کر ہی بلاتا – اس کے ننھے منے سوالوں میں آہستہ آہستہ پختگی آتی گئی – میں گرایجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی اورقائداعظم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گجرات سے ہجرت کر گیا – تاہم جب کبھی گجرات جاتاتوجب تک وہاں رہتا، دن میں ایک یا دو بار محبوب مجھے ضرور ملتا اور میرے ساتھ حالات حاضرہ پرتبادلہ خیال کرتا – اکثر میرے کمرے میں گھنٹوں بکھری کتابیں پڑھتا رہتا –
اس نے میری ہی حوصلہ افزائی سے لکھنے کی ابتداء کی – ہفت روزہ ”الحدید“ وہ پہلا اخبارتھا جس میں اس نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا – پھر ”الحدید“ بھٹو حکومت نے بند کر دیا لیکن اس نے لکھنے کا سلسلہ بندنہیں کیا – 1977 ء میں الحدید کا پھر سے آغاز ہوا تو میں نے اس میں محبوب کا ایک کالم اور ڈائری پڑھی تو حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی – کل جس نے میری انگلی پکڑ کر چلنا شروع کیا تھا آج بھاگ رہا تھا -بعد میں پتہ چلا کہ اس شمارے کا اداریہ بھی محبوب نے ہی لکھا ہے جس میں خواجہ غلام علی لون صاحب نے اس کی راہنمائی کی ہے – یہ علم بھی ہوا کہ کئی صحافی جو عمر میں اس سے بڑے ہیں اس کی تحریروں کے باعث اس سے حسد بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں – میں حیران ہوا کہ اتنی چھوٹی عمر میں محبوب اتنا بڑا کام کرنے لگا ہے – یہی وہ مقام تھا جب میں نے محبوب کی مکمل راہنمائی کا فیصلہ کیا – میں نے اس کی مکمل حوصلہ افزائی کی اور ساتھ ہی اس کو ترغیب دی کہ لوکل اخباروں کے ساتھ قومی سطح کے اخباروں میں بھی لکھاکرے – میں نے ہی اسے ”قومی ڈائجسٹ“اور ہفت روزہ ”بادبان“ میں لکھنے کے مواقع فراہم کئے –
گومحبوب قبل ازیں آغا جی (شورش کاشمیری مرحوم)کا شاگرد ہو چکا تھالیکن اب اس نے میری باقاعدہ شاگردی اختیار کی – میں نے نہ صرف اس کے ذوق مطالعہ کی ترویج کی کوشش کی بلکہ اس کے مضامین، افسانوں اورڈائریوں کی اصلاح بھی کی- اس دور میں بھی گو محبوب کی تحریروں میں اصلاح کی گنجائش بہت کم تھی لیکن اس کو معاشرے کی اونچ نیچ اوررسوم و رواج کے حوالے سے بتانا ضروری تھا – میرے ساتھ مشاورت کے بعد وہ اپنی تحریروں سے کئی پہرے حذف کرتا اور کئی نئے شامل کرتا – میں نے اسے ایک سے زیادہ تفاسیر پڑھنے کی ہدایت کی – اس کے علاوہ میں نے اس کو مطالعہ حدیث میں بھی راہنمائی دی – میں پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی کا استاد رہ چکا ہوں – محبوب یہاں بھی میرا شاگرد تھا اور صوفیاء کے کلام سے اس کی رغبت اور اس کی تشریح میں اس کی مہارت کا ہر کسی نے اعتراف کیا- بحیثیت استاد میں چاہتا تھا کہ محبوب کسی تکبر کا شکار نہ ہو – اس لئے میں حوصلہ افزائی کے ساتھ اس کو سرزنش بھی کرتا جسے وہ مسکرا کر قبول کرتا – میں اسے اکثر ”بازاری“ مصنفوں اور ادیبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتا- ایک دفعہ اگرمیں اسے کسی کام سے منع کردیتا تو وہ دوبارہ نہیں کرتاتھا – میں چاہتا تھا کہ محبوب کی خوبی ٌ تحریرکو زیادہ سے زیادہ اجاگر کر کے اس کے اندرچھپے ہوئے جوہر کو باہر نکالا جائے اوراسے بہت بڑا ادیب اورصحافی بننے میں مدد دی جائے- اس نے میری اس خواہش کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی –
زمیندار سائنس کالج گجرات کے مجلہ ”شہباز“ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے اسے پہلی دفعہ آزادانہ طورپربحیثیت چیف ایڈیٹر اپنی صلاحیتیوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملا جس کو اس نے اس خوبی سے نبھایا کہ بڑے ناموں والے صحافی اورلکھاری انگشت بدنداں رہ گئے – محبوب نے ایک ”آئیڈیل“ میگزین تیار کیا جو روایات سے ہٹ کر تھا – میں بحیثیت ایڈیٹر محبوب کو مشکل سے مشکل ٹاسک دیتا تاکہ وہ زیاد ہ سے زیادہ تجربات اورتربیت کی مشکلات سے گزرے لیکن وہ بڑی مہارت سے اس دریا کو پار کر جاتا – انگریزی کے عظیم مصنف ملک اشرف مرحوم محبوب کی انگریزی کی استعداد سے بہت متاثر تھے جبکہ حمید اللہ مفتی بھی اس کی تائید کرتے تھے – انہی کی آراء کی روشنی میں میں نے محبوب کو انگریزی کتابوں کے ترجمہ اور تلخیص کا مشورہ دیا تو اس نے اس میدان میں بھی کامیابی حاصل کی -یہاں اپنے اور محبوب کے ایک مشترکہ دوست آفتاب مفتی شعلہ کا ذکر بھی خوب ہو گا جو اکثر مجھے اکیلے میں مل کر کہتے ”خالد ہمایوں! محبوب میں کمال کا جوہر ہے اس کو راہنمائی کی ضرورت ہے -“ میں آج یہ سطور لکھتے ہوئے رقت سے مفتی صاحب مرحوم کی فن شناسی کو داد دئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا – ایڈیٹر نوائے وقت لاہور پروفیسر سلیم میر مرحوم (سرراہے والے)بھی محبوب کی تحریروں سے بہت خوش ہوتے – میرے کہنے پر محبوب نے ان کے سامنے بھی باقاعدہ زانوئے تلمذ طے کیا –
ایک موقع پر محبوب اپنا ایک افسانہ ”چوری“ لے کر خوشی خوشی میرے پاس قومی ڈائجسٹ کے دفتر آیا اور کہنے لگا کہ ”باباجی“ (اشفاق احمد زاویہ والے) نے مجھے کمپلیمنٹ دیا ہے کہ اگر میں اسی طرح لکھتا رہا تو منٹو اور بیدی سے بھی بڑا نام کما لوں گا- یقینامیرے دل میں بھی یہی بات تھی لیکن میں محبوب سے کہہ نہیں سکتا تھا کیونکہ مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ کہیں زیادہ تعریفیں اس کی ترقی کا راستہ نہ روک لیں – مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اتنے بڑے دانشور نے میرے ایک شاگرد کو اتنا بڑا کمپلیمٹ دیا –
زیر نظر کتاب ”نذرآتش“ کے بارے سطور بالا میں بیان کی گئی تمام خوبیاں موجود ہیں – میں محبوب کے کسی ایک کالم پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ ہر کالم اپنے اندر تبصرے کا وسیع مواد رکھتا ہے – مجموعی طور پر یہ ہے کہ اس نے محاورے کا بہترین استعمال کیا ہے – زبان سلیس استعمال کی ہے -قاری کی ذہنی استطات کا خیال رکھا ہے – داستان گوئی کرکے قاری کی دلچسپی کا سامان پیدا کیا ہے – وہ جس موضوع پر لکھتا ہے اس کے بارے میں مکمل معلومات اور سیاق و سباق فراہم کرتا ہے – کسی شخصیت کے ذکرمیں اس کی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے- تنقید اصلاحی کرتا ہے – طنز کرتا ہے تو اس میں عزت نفس کا مکمل خیال رکھتا ہے – مزاح میں توہین کا پہلو اس کی تحریروں میں ہرگز نہیں پایا جاتا – کہانی بیان کرتا ہے تو اس کے سچ ہونے کا گمان ہوتا ہے – اس کے کالموں میں سیاست، ادب، موسیقی، ثقافت، معاشرت اور ہر موضوع موجود ہے – سیاست میں کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں ذاتیات پر نہیں آتا بلکہ خامی بیان کرتے ہوئے خوبی بھی واضح کرتا ہے اوراس حوالے سے کمیونٹی کی تشویش دور کرنے کا راستہ بھی دکھاتا ہے -اس کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہمہ جہت ہے – اپنی تحریروں کو ایک سٹائل میں قید نہیں کرتا – اس سے بھی بڑی خوبی یہ کہ اس نے صحافت کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی – صحافت کے علاوہ افسانے اور ناول لکھے، شاعری بھی کی اور موسیقی میں بھی نام کمایا –
صحافت اور تحریر میں محبوب کا سب سے بڑا ”کاٹٹری بیوشن“ یہ ہے کہ برطانیہ کے کثیر القومیتی معاشرے میں رہتے ہوئے اس نے یہ شعور اجاگر کیا کہ وہاں پاکستانی کمیونٹی کی بحیثیت اقلیت ضروریات کیا ہیں – اس حوالے سے وہ اپنی تحریروں میں معاشرے کی اصلاح پر زور دیتا ہے اور قوم میں فکر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے – باہمی اتحاد کا درس دیتے ہوئے برطانوی معاشرے میں بسنے والی دوسری اقوام کے ساتھ بہترین تعلقات پیدا کرنے کا خواہاں بھی ہے جو ایک بہت بڑی فکری خوبی ہے – وہ تحریر میں نمائش یا بلاوجہ کسی کی توصیف کا قائل نظر نہیں آتا بلکہ وہ ایک مثبت اور مستقیم سوچ رکھتا ہے – اس کی تحریروں میں جہاں اسلامی تعلیمات اورپاکستانی معاشرت کی جھلک ہے وہیں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اورتہذیبوں کا مطالعہ بھی کیا ہے – وہ پاکستان کے ساتھ اپنا ذہنی اور قلبی تعلق بھی نبھاتا ہے – شانتی نگر میں مسیحی کمیونٹی کے ساتھ پرتشدد واقعات پر چیخ اٹھتا ہے -اس کی تحریروں میں جہاں شفاق احمد، مولانا مودودی، شورش کاشمیری، ابولکلام آزاد، امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد،نعیم صدیقی،ظفر علی خان، مجیب الرحمٰن شامی، آیت اللہ خمینی اور ان جیسے بیسیوں مشاہیر کے حوالے موجود ہیں وہیں وہ سبط حسن اور کارل مارکس سمیت کیمونسٹ مصنفوں کی تحریروں سے بھی استفادہ کرتا ہے -اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کے فلسفے کو بھی حوالے کے طور پر پیش کرتا ہے – الغرض محبوب الٰہی بٹ کی لکھی ہوئی یہ کتاب ”نذرآتش“ اردو ادب اور صحافت میں ایک گراں قدر اضافہ ہے جس میں نہ صرف مستقبل کے قاری کے لئے آج کی معاشرت کو جاننے کا وسیع مواد موجود ہے بلکہ یہ صحافت کے طالبعلموں کے لئے ایک ٹیکسٹ بک کا درجہ بھی رکھتی ہے جس میں استفادہ کرنے کے مواقع بدرجہ اتم موجود ہیں –