آج غلام حسین بڑے غصے میں تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو وہ کسی ”چھیمے“ نام کے بندے کے خلاف اول فول بکنے لگا۔میں نے پھر پوچھا تواس نے مزید غصے سے ”چھیمے“ کے بارے میں غلط باتیں شروع کر دیں۔ تین چار دفعہ پوچھنے پر بھی غلام حسین کچھ نہ بتا سکا اور بار بار ”چھیمے“ کا نام لے کر اسے کو ستا رہا۔ اب نہ میں چھیمے کو جانتا ہوں اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی ایسی بات مجھے معلوم ہے تومیں غلام حسین کی بات سن کر حیران ہی تو ہو سکتا تھا۔آخر میں نے غلام حسین سے یہ پوچھنا ہی چھوڑ دیا کہ بات کیا ہے اوریہ چھیما بیچارا کون ہے جس کے بارے میں وہ اس قدر خامہ فرسائی کر رہا تھا۔میری خاموشی دیکھ کر غلام حسین کوشاید فکر ہوئی کہ اگر میں نے اس بارے میں مزید نہ پوچھا ’تو شاید وہ مجھے کچھ بتا ہی نہ سکے۔ آخر غلام حسین نے زبان کھولی اور کہانی شروع کی جو کچھ اس طرح سے تھی: ”چھیمے“ نے حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے باؤلنگ کے سٹائل میں بازو گھمایا ہے۔ اس سے اللہ اور نبی ؐ کے احکام کی بے حرمتی ہوئی ہے۔یہ کوئی مسلمانیت نہیں ہے۔ یہ خود کو سمجھتا کیا ہے؟ ذرا سی شہرت کیا ملی’اس ناہنجار ”چھیمے“ کو کہ اس نے اللہ کے ساتھ ہی ”مشکریاں“ شروع کر دیں۔
میں نے کہا‘پہا گامیاں پہلے تو مجھے یہ بتاکہ یہ ”چھیما“ کو ن ہے جس کو تم اس قدر کوس رہے ہو۔ غلام حسین نے چند ایک خرافات بکے اور کہا کہ یہ جو ”وسیم اکرم“ ہے اسی کو چھیما کہہ رہا ہوں۔
”تمہارا مطلب ہے کہ وسیم اکرم جو پاکستان کرکٹ ٹیم کا فاسٹ باؤلر اورکپتان بھی رہا ہے“۔ میں نے پوچھا
”بالکل وہی ہے چھیما جس نے شیطان کو پتھر مارتے ہوئے بازو اس طرح گھمایا ہے جیسے وہ کوئی کسی کرکٹ کی گراؤنڈ میں ون ڈے میچ کھیل رہا ہے اور اس کے سامنے دنیا کا کوئی طاقتور ترین بیٹسمین ہے جس کو وہ بازو کا سٹائل بنا کر بالنگ کروا رہا ہے“۔غلام حسین نے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”تو اس سے تمہیں کیا تکلیف پہنچی ہے جوتم اس کو اس قدر کوس رہے ہو“؟ میں نے پوچھا
”آپ صرف میری تکلیف کی بات کرتے ہیں۔ اس کی اس ناپاک حرکت سے مجھے ہی نہیں بلکہ دنیا کے اربوں فرزندان توحید کو تکلیف پہنچی ہے۔ وہ اللہ کا گھر ہے۔ وہاں انسان کو عاجزی کے ساتھ جانا چاہئیے۔ ناں کہ وہاں جاکر شرارتیں کرنی چاہئیں“۔ غلام حسین بدستورغصے میں تھا
میر اخیال ہے کہ اگر میں اس موقع پر غلام حسین کو پینے کیلئے ٹھنڈا پانی نہ دیتا تو شاید اس کا بلڈپریشر خطرناک حد تک بڑھ جاتا۔ چنانچہ میں نے اسے پینے کیلئے ٹھنڈا پانی دیا او رکہا:”یہ بتاؤ کہ اس سے تمہیں کیا تکلیف پہنچی ہے اورکیوں یہ تکلیف پہنچی ہے“؟
”توآپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے اس پر تکلیف بھی نہیں پہنچی چاہئیے“؟غلام حسین نے کسی حد تک نارمل ہوتے ہوئے پوچھا
”بالکل نہیں۔بلکہ تم تو خود گناہگار ہو رہے ہو۔ ایس باتیں کر کے“۔ میں نے جواب دیا
”وہ کس طرح جی“؟ غلام حسین نے اپنی مٹھی کامکا بن کر اپنی ٹھوڑی کے ساتھ لگایا اور کہنی میز کے ساتھ رکھتے ہوئے میری طرف دیکھ کر پوچھا
”تم کرکٹ کے ایک عالمی ہیرو کا نام بگاڑ کر پیش کر رہے ہو اور تم جانتے ہو کہ کسی کا نام بگاڑنا گناہ ہے۔ دوسری بات ’کہ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ وسیم اکرم کا یہ عمل جس میں اس نے باؤلنگ کے سٹائل میں بازوگھما کر شیطان کو کنکریاں ماری ہیں ’کسی طور پر بھی شعائر اسلام کے خلاف ہے یا اس سے نبیؐ یا اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے“۔ میں نے جواب دیا۔ اب غلام نبی کاغصہ ایک دم ٹھنڈا ہوگیا۔ کیونکہ اس کے پاس میری بات کے جواب میں کوئی سوال نہیں تھا۔
”بھائی مولوی کہہ رہا تھا کہ یہ کرکٹ کا میدان نہیں ہے ’جہاں وسیم اکرم نے باؤلنگ کے سٹائل میں شیطان کو کنکر مارے ہیں“۔ غلام حسین نے جوش سے کسی حد تک ہوش میں آتے ہوئے کہا۔
”شاباش غلام حسین۔ تم نے ایک کرکٹ لیجنڈ کو اس کے اصلی نام سے پکارکر بہت اچھاکیا۔وسیم اکرم ایک بہت بڑا باؤلر ہے۔جس کی قدر کرنی چاہئیے کہ اس نے پاکستان کو اپنے ہنر سے بہت عزت دلوائی ہے۔ اگراس نے باؤلنگ کے انداز میں بازو کو گھما ہی لیا ہے تو اس نے کیا غلط کیا ہے؟ تم نے دیکھا نہیں کہ حج کے دنوں میں جب لوگ شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں تواس قدر غصے میں آجاتے ہیں کہ لوگ شیطان کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔ چند روز قبل تو میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا کہ انڈونیشیا کے ایک بزرگ مسلمان اپنی چھتری سے شیطان پر ہوائی فائرنگ کی اداکاری بھی کرر ہے تھے۔ کیا یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ؐ نے دئیے ہیں کہ ایسا کرو“؟ میں نے اگلا سوال کر دیا
”بھائی جی سچی بات ہے کہ مجھے تو اس بارے میں معلوم ہیں نہیں۔ البتہ مولوی صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں وسیم اکرم کو سخت سست کہا تو میں نے بھی یہی سمجھا کہ شاید اس نے کوئی ایسی حرکت کی ہے جو شعائر اسلام کے خلاف ہے۔چنانچہ میں نے بھی اس پر احتجاج کیا“۔ غلام حسین نے ٹھنڈا پڑتے ہوئے کہا
”یعنی تم نے اس کی تحقیق نہیں کی کہ کیا اس کا یہ عمل واقعی ایک گناہ ہے یا نہیں اور چڑھ دوڑے تم اس کے خلاف غیبت کرنے جو بذات خود ایک گناہ ہے“۔ میں نے پوچھا۔”اب یہ بتاؤ کہ تم نے صرف مولوی کی بات سن کر ہی وسیم اکرم کے خلاف یہ سارا لاوا اپنے ذہن میں پکا لیا اوراس پر غور نہیں کیا“؟
”بھائی جی میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ مولوی صاحب چونکہ اس منصب پر بیٹھے ہیں جہاں وہ لوگوں کو دین کے بارے میں ہدایت دیں۔چنانچہ وہ جو بتاتے ہیں میں اسے ہی عین اسلام سمجھتا ہوں اوراسی پر عمل کرتا ہوں“۔غلام حسین نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ بھولا بھی وہیں آگیا۔ساری بات سن کر اس نے بیزاری سے کہا:”غلام حسینیا!کبھی اپنے ذہن سے بھی سوچ لیا کر۔ یہ بات یاد رکھ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات کو خود حاصل کرو اوران پر عمل کرو۔ ورنہ مولوی توآج تک قوم میں انتشار ہی پھیلاتے آئے ہیں۔پاکستان کے مسلمانوں کا یہ حال مولویوں نے ہی کیا ہے۔ جو دوسرے مسلک کے ہر مسلمان کو کافراور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ خدا کیلئے تم اپنی عاقبت سنوارنے کا کوئی سامان کرو۔ورنہ اگر مولوی کی بات پر لگو گے تو گھاٹے میں ہی رہو گے“۔ساتھ ہی بھولے نے میری طرف دیکھا اور کہا:”پاکستان میں مولویوں کو انتشار پھیلانے کا نیا موقع ہاتھ آگیا ہے۔حالانکہ وسیم اکرم کے ایکشن سے نہ ہی تو شعائر اسلام کی کوئی توہین ہوئی ہے اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسول ؐ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ایسے مولویوں کو تو۔۔۔۔“
میں نے بھولے کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی اور کہا:”بھولیاچاء پیویں گا“۔ کیونکہ میں نے چاہتاتھا کہ ایک غلام حسین کا بلڈ پریشر کم کرتے کرتے بھولے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجائے۔