فیس بک پر ایک خبر دیکھی ہے جس میں واضح کیاگیا ہے کہ مجاہد کشمیر یاسین ملک نے اپنی بیوی مشعال ملک کے نام ایک خط میں انہیں یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ انہیں طلاق دینے کو تیار ہیں کیونکہ ان کو جہد آزادی کی پاداش میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں وہ نہیں چاہتے کہ مشعال ملک ان کی وجہ سے کسی ذہنی مرض کا شکار ہوں اوروہ انہیں آزادکرنے کو تیار ہیں ۔تاکہ مشعال ملک اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوں ۔ انہوںنے اپنی بیٹی کے نام بھی ایک درد بھرے خط میں اسے تحریک آزادی کشمیر کیلئے کام کرتے رہنے کی ہدایت کی ہے۔ خبر کسی میڈیا میں تونہیں آئی مگر خبر لکھنے والے نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سنئیر وائس چئیرمین راجہ مظفر کے حوالے سے یہ خبر لگائی ہے۔ راجہ مظفر آج کل امریکہ میں آباد ہیں جہاں وہ تحریک آزادی کشمیرکیلئے کوشاں ہیں ۔راجہ مظفر جو رشتے میں آزاد جموں وکشمیر کے سابق وزیراعظم فاروق حیدرکے کزن ہیں ’ کے ساتھ امریکہ میں رابطے کی کوششیں تو کی ہیں مگر کامیاب نہیں ہوئیں ۔ چنانچہ ہم اس خبر کے مکمل طور پر درست ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے ۔ مگر اس حوالے سے یہ بات ضرورکریں گے کہ کیا کسی کو یاسین ملک کی سلامتی اور ان کے صحت نیز ان کے حالات کے بارے میں کوئی ہوش یا کوئی بھی ہے یا نہیں ؟ کیا اسی طرح لوگ تحریک آزادی کشمیر کے نام پر دوکانداریاں چلاتے رہیں گے اور بھارت یونہی شہید کشمیر مقبول بٹ ؒ کی طرح یاسین ملک کو بھی نگل جائے گا؟
گذشتہ ساٹھ سالوں میں میں نے برطانیہ میں ہر شخص کو تحریک آزادی کشمیر کا جھنڈا اٹھائے دیکھا ہے ۔ ہر شخص یہ نعرہ تو لگا رہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزادہونا چاہئیے۔ تاہم یہ بات کوئی بھی سننے کو تیار نہیں کہ کشمیریوں کی اکثریت پاکستان کے ”چنگل “ سے بھی آزاد ہونا چاہتی ہے ۔ ہم نے ہمیشہ اس مسئلے کا حل یہ پیش کیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری کروائی جائے ۔ گوکشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں تو ریاست کے پاکستان یا بھارت کے الحاق تک محدود ہیں ۔ تاہم ان قراردادوں میں یہ واضح لکھا گیا ہے کہ:” رائے شماری سے قبل پاکستان کی ساری فوج ریاست جموں وکشمیر سے نکل جائے گی ۔ البتہ انتظامی معاملات کیلئے بھارت کی فوج کا کچھ حصہ ریاست میں رہے گا“۔ جب بھی ہم اس بات کا حوالہ دیتے ہیں تو چند پاکستانی اس کو نجانے کیوں وفاق پاکستان کے خلاف قراردیتے ہیں ۔اورتو اور ہمارے اوپربھارت کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگا دیتے ہیں ۔ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم سچ نہ لکھیں؟ کیا ہم قوم کو یہ مت بتائیں کہ تم لوگوں کو مسئلہ کشمیر پربیوقوف بنایا جارہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کی آزادی کی کوئی راہ نہیں نکلتی جو تمہیں یہ لیڈر بتا رہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف ہیں ۔ ہم نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا متن دیکھ لے ’ تو اس کی طبیعت صاف ہوجائے گی ۔ مگر ہمارے یہ پاکستانی کرم فرما ءمحض ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے “ ۔جبکہ بھولا کہتا ہے کہ اگر کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے تو پھر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ بھی توہے ۔ تیسری بات کشمیری قوم کی ہے جو کہتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر کشمیریوں کی ہے ۔ یہ نہ کسی کااٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی کسی کی شہ رگ ہے ۔بلکہ یہ ایک کروڑ پچیس لاکھ کشمیری باشندوں کی قومی خود مختاری اور آزادی کا مسئلہ ہے ۔ چنانچہ ان کا مﺅقف یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی فوجیں ریاست سے نکالیں اورہمیں آرام کے ساتھ رہنے دیں ۔یہ ان کا مﺅقف ہے اور ہم ان کے اس مﺅقف کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح پاکستان کے مﺅقف کا احترام کرتے ہیں ۔
چند دن قبل ہم نے یہ بات انہی صفحات پر بیان کی تھی کہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم مرحومؒ کے ساتھ 1996 ءمیں ایک ملاقات میں مجاہد اول نے ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری کے حوالے سے یہ بات تسلیم کی تھی کہ اقوام متحدہ کی کی قراردادوں میں یہ واضح ہے کہ رائے شماری سے قبل پاکستان کی فوج ریاست سے نکل جائے گی اور بھارت کی فوج کے زیر کنٹرول رائے شماری ہو گی ۔ میرامجاہد اول سے اگلا سوال تھا کہ کیا آپ بھارتی فوج کے زیر کنٹرول رائے شماری کو منصفانہ سمجھتے ہیں جبکہ بھارت خود بھی کشمیر کا ایک فریق ہے ؟ اس پر مجاہداورل نے جواب دیا تھا کہ یہ قرار داد 1948 ءکی ہے ۔ اگر اس وقت رائے شماری ہوجاتی تو بہتر تھا ۔ اب حالات چونکہ بدل چکے ہیں اور کشمیری قوم بھارت کے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جبری قبضے کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ چنانچہ ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ رائے شماری کے موقع پر پاکستان اور بھارت دونوں کی فوجیں ریاست سے نکل جائیں اوران کی جگہ انتظامی امور اقوام متحدہ کی امن فوج سرانجام دے ۔ اس پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ زون کے صدر افضل جاتلوی مرحوم نے بیان دیاتھا کہ اچھا ہوا کہ سردار قیوم صاحب نے یہ بات تسلیم کر لی کہ حالات اب بدل چکے ہیں اوران کے مطابق انہوں نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں ’ تو یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں خودمختار کشمیر کا آپشن نہیں ہے جبکہ کشمیریوں کی اکثریت آزاد اور خودمختار رہنا چاہتی ہے ۔کشمیر کا ایسا کوئی حل قابل قبول نہیں ہو گا جس میں کشمیریوں کی رائے نہ لی جائے ۔چنانچہ جب رائے شماری ہو گی تو ہم بھی یہ مطالبہ کریں گے کہ رائے شماری تین آپشنز پر ہو ۔تاہم انہوں نے ایک بات زور دے کر کہی کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی دو آپشنز پر ہیں جبکہ کشمیریوں کے بھی دو ہی آپشن ہیں ۔پہلا آپشن یہ کہ کشمیرکو آزاد اور خودمختار رہنا ہے جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ اگر خودمختار کشمیرممکن نہیں تو پھر ہمیں پاکستان کے ساتھ رہنا ہے ۔کشمیری کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا یہ یہ امر مضحکہ خیزنے کہ انڈیا کے ساتھ الحاق کا آپشن پاکستان کا ہے ۔ کشمیریوں کا نہیں ۔ تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی ہمیں بھارت کی غلامی میں جانے کا آپشن تو دیتے ہیں ’ خود مختار رہنے کے آپشن کی مخالفت کرتے ہیں ۔وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟
ہمیں یہاں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کیلئے ساری کی ساری قربانیاں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے دی ہیں ۔اس میں لبریشن فرنٹ کے تمام گروپ شامل ہیں ۔ کسی نے تھوڑی اور کسی نے زیادہ قربانی دے کر کشمیرایشو کو زندہ رکھا ۔مذہبی جماعتوں نے وہاں ایک دوسرے کے خلاف محض طاقت کا استعمال ہی کیا ہے ۔ جس کا فائدہ بھارت کو پہنچا ہے ۔ورنہ ریاست جموں وکشمیر اب تک آزاد ہو چکی ہوتی ۔شیخ عبداللہ مرحوم کا جھکاﺅ بھارت کی طرف تھا مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کشمیری قوم پرست تھے ۔انہوں نے ہی ریاست سے بادشاہت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اورمہاراجہ کے اختیارات چھین کر وہاں عوام کے حقوق کی بات کی تھی ۔ اس کے بعد شہید کشمیر مقبول بٹ ؒ کانام آتا ہے جو ساری عمر ریاست جموں وکشمیر کی آزادی اور خودمختار کشمیر کے قیام کی جنگ لڑتے رہے ۔پاکستان اور بھارت دونوں مقبول بٹ ؒ کو ایک دوسرے کا ایجنٹ کہتے رہے ۔ مگر وہ اگر ایجنٹ تھے توصرف کشمیری قوم کے ایجنٹ تھے اورانہوں نے تحریک آزادی کشمیر کیلئے اپنی جان کی قربانی دے کر تحریک آزادی کشمیر میں جان ڈال دی ۔ بعد میں یہ تحریک مختلف لوگوں کی قیادت میں آگے بڑھتی رہی ’جن میں امان اللہ خان ’ خالق انصاری ؛جی ایم میر؛ نسیم لون ’ہاشم قریشی اور دیگر سینکڑوں نام شامل ہیں ۔ البتہ گذشتہ کئی دھائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کی قیادت یاسین ملک کے ہاتھوں میں ہے ۔یقینا وہ ایک فریڈم فائٹر ہیں اوران کی گرجدار آواز سے بھارت کے ایوان لرز جاتے ہیں ۔ بھارت نے گذشتہ کئی سالوں سے یاسین ملک کو ناجائز مقدمات قائم کر کے جیل میں بند کررکھا ہے ۔ انہیں ان مقدمات میں بھارت کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے جس کے خلاف بھارت کی حکومت نے اپیل کر رکھی ہے کہ اس کوسزائے موت میں بدل دیا جائے ۔ یاسین ملک ہمیشہ بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں ۔ تاہم گذشتہ روزیہ خبر پڑھ کر میں چونک گیا ۔ خبر کے مطابق یاسین ملک نے اپنی بیوی کے نام ایک پیغام میں اسے طلاق لینے کا عندیہ دیا ہے او رکہا ہے کہ وہ ان سے الگ ہو کر اپنی زندگی بنائے کیونکہ میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے ۔یہ خبر دنیا بھرکے کشمیریوں کیلئے بالخصوص اور کشمیر کی آزادی کا راگ الاپنے والے پاکستانیوں کیلئے بالعموم ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔جی ہاں تم کشمیر کی آزادی کی بات تو کرتے ہو مگر کشمیرکے مجاہدآزادی کی تمہیں کوئی فکر نہیں ۔ہے کوئی جو اس مقصدکیلئے سامنے آئے اور یاسین ملک کی رہائی کیلئے تحریک چلائے ؟ ہے کوئی جو یاسین ملک کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر چلے ؟ کسی کو یاسین ملک کی فکر بھی ہے یا نہیں؟۔
اٹھو ورگرنہ حشر نہ ہوگاپھر کبھی