یوم آزادی پاکستان کے اہداف؟

پاکستان کا 80 واں یوم آزادی بھی گزر گیا۔یوم آزادی کے حوالے سے بہت سی تقریبات منعقد ہوئیں ’جن میں قومی پرچم لہرائے گئے۔صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کے سٹریو ٹائپ پیغامات پڑ ھ کر سنائے گئے۔ نوجوانوں نے مانچسٹر کی ولمزلو روڈ پر لوگوں کا سکون اجاڑا اور نعرے لگا کر یہ بتایا کہ پاکستان آج کے دن آزادہوا تھا۔جہاں تک مشاہیر کی تقاریر کا تعلق ہے تو اس سال بھی وہی پرانی کیسٹ چلادی گئی جو ہم گذشتہ 80 سال سے سنتے آرہے ہیں۔جن میں یہ بات ہمیشہ کی طرح نمایاں تھی کہ پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہم نے لاکھوں ماؤں بہنوں کی عصمتوں کی قربانی دی؛لاکھوں افراد کی جانوں کی قربانی دی ’بہت سے لوگ ہندو ؤں کے ظلم سے تنگ آکر نو زائیدہ مملکت پاکستان کی طر ف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اورہندوستان میں ان کی جائیدادوں پر ہندوقابض ہوگئے۔ مہاجروں کو پاکستان میں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یقینا یہ باتیں تو ہم ہر سال سنتے ہیں بلکہ بقول بھولے کے یہ باتیں سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں۔ مگر یہ ساری نہیں تو ان میں بہت سی باتیں جھوٹی بھی ہوتی ہیں۔ بھولے کا دعویٰ ہے کہ کسی نے پاکستان کی آزادی کیلئے کسی نے کوئی قربانی نہیں دی۔ پاکستان کا اعلان 3جون 1947ء کو ہوا تھا۔اس وقت تک کسی جگہ کوئی ہندومسلم فساد نہیں ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کے اعلان کے بعد پنجاب کے دونوں اطراف میں دہشت گردی ہوئی ’جس میں اگر مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہواتو پھر مغربی پنجاب کے ہندواو رسکھ بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔ پاکستان میں شامل ہونے والے پنجاب میں ہندوؤں او رسکھوں اور ان کی عورتوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔اگر بھارت میں شامل مسلمانوں کو وہاں کے ہندواور سکھ بلوائیوں کے ظلم سے نجات کیلئے وہاں سے ہجرت کرنی پڑی تھی تو پاکستان سے بھی سکھوں اورہندوؤں کو مسلمان قبائیلی دہشت گردوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر بھارت کی طرف ہجرت کرنی پڑی تھی۔ اگر دونوں طرف امن وسکون رہتا تو شاید آج وہ حالات نہ ہوتے جواب ہیں۔ تاہم ہمیں تاریخ کا ایک ہی پہلودکھایا جاتا ہے۔جس میں مسلمانوں کو مظلوم اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو ظالم قرار دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ دونوں طرف حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کے باعث انسانوں کا قتل ہو ا۔ انسانوں کی عصمتیں لوٹی گئیں اور انسانوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنی پڑی۔یوں ایک غلط تاریخ پڑھا کر نوجوان نسل کواس قابل ہی نہیں چھوڑا گیا کہ وہ پاکستان کے قیام کے حوالے سے کچھ جان سکتے۔سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قیام پاکستان کیلئے قربانی نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان بننے کے بعد دونوں طرف ہونے والی دہشت گردی تھی۔ جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کاجانی اور مالی نقصان ہوا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے پاس اس دہشت گردی کو روکنے کی کوئی پلاننگ نہ تھی۔تاہم پھر بھی حکومت کو چاہئیے تھا کہ ان نقصانات کی مذمت کرتی اور ان کے پیچھے کارفرما دہشت گردوں کے ہاتھوں کے بے نقاب کرنے کیلئے کوئی کمیشن مقرر کرتی۔ مگر حکومت میں شامل پاکستان کے بیورکریٹوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے جاگیرداروں نے اس قتل وغارت کی مذمت کرنے کی بجائے اس کو اپنے حق میں کیش کروایا۔
اگلی بات جویوم آزادی کے موقع پر بتائی جاتی ہے ’وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی ’وہ سب غدار ہیں نیز وہ انگریز اور ہندو کے ایجنٹ تھے۔اب کوئی عقل کے ان اندھوں سے پوچھے کہ انگریزوں کے خلاف جیل تو کاٹی ابولکلام آزاد نے ’نہرونے ’گاندھی نے ’خان عبدالغفار خان نے ’سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے جبکہ قائد اعظم ؒ سمیت آل انڈیا مسلم لیگ کا کوئی لیڈر ایسا نہیں جس نے انگریز کے خلاف جدوجہد میں جیل کاٹی ہو۔ توپھروہ انگریز کے ایجنٹ کیسے ہوگئے؟ہاں ان کا مؤقف باکل واضح تھا۔ وہ انگریزوں سے دو ٹوک الفاظ میں کہتے تھے کہ تم ہمارا ملک چھوڑو اوریہاں سے نکل جاؤ۔ رہی بات ہندوستان کا نظام چلانے کی تو وہ ہم تمام مذاہب کے لوگ مل کر اسی طرح چلا لیں گے جس طرح پانچ سو سال سے چلاتے آئے تھے۔تاہم انگریز یہاں سے جانے سے پہلے اس خطے میں لڑائی لگوا کرگئے اورہندوستان کو دو ریاستوں میں تقسیم کرکے گئے۔ جہاں تک پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کی بات ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ انہوں نے اس معاملے میں اپناجمہوری حق استعمال کیا۔ جب پاکستان بن گیا تو ان لوگوں نے پاکستان کو تسلیم کر لیا کہ چونکہ اب یہ ایک الگ ریاست بن گئی ہے ’اس کومضبوط بنانے اور اس کی ترقی میں وہ بھی حصے دار بنیں گے۔ مگر پاکستان مسلم لیگ میں شامل جاگیرداروں نے ان کی قربانیوں اور ان کی محنت کارخ ان کے ماضی کے استدلال سے جوڑ کر قوم کو ہمیشہ یہ باور کروایا کہ ان لوگوں نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور یہ پاکستان کے قیام کے مخالف تھے۔لہٰذا انہیں پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
ان جاگیرداروں نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔حالانکہ قائد اعظم ؒ نے اپنی 11اگست 1947ء کی تقریر میں یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان کی ریاست ایک سیکولر ریاست ہو گی جس میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی ہو گی۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ قائد اعظم ؒ کی پہلی کابینہ میں آٹھ میں سے تین وزراء غیر مسلم تھے۔ چلو اس بات کو مان ہی لیں کہ پاکستان اسلام کیلئے حاصل کیا گیاتھا توسوا ل یہ ہے کہ اس کے نام میں پہلے دن سے ”اسلام“ کو شامل کیوں نہیں کیاگیا؟ پہلے دن ہی یہاں اسلامی نظام شریعت کا نفاذ کیوں نہیں کیاگیا؟؛پاکستان کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ تو 1973ء کے آئین میں رکھا گیا۔ اس سے پہلے پاکستان کیا تھا؟اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پاس آزادی سے قبل اورفوری بعداسلامی نظام کے نفاذ کا کوئی ایجنڈہ نہیں تھا۔ جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی نافذ کر دیا جاتا؟
قیام پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں بنگالیوں نے دیں۔بنگالی متحدہ پاکستان میں اکثریت میں تھے۔ یعنی وہ ایک صوبہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے بقیہ چار صوبوں کی آبادی سے زیادہ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ پاکستان کی قومی زبان بنگالی ہونی چاہئیے مگر پاکستان پر اردو کو قومی زبان کے طور پر ٹھونس دیا گیا۔ جو پاکستان کے کسی صوبے کی زبان نہیں تھی بلکہ یہ بھارت سے آنے والے بیوروکریٹوں کی زبان تھی۔ اس پرطرہ یہ کہ پاکستان کی علاقائی زبانون کے ساتھ زیادتی یہ کی گئی کہ پاکستان کی کسی علاقائی زبان کو ابتداء میں قومی نصاب میں شامل نہیں کیا گیا۔ البتہ عربی اور فارسی زبانیں ضرور پڑھائی گئیں۔حتیٰ کے پاکستان کے اردوزبان میں لکھے گئے جگن ناتھ آزاد کے قومی ترانے کی بجائے فارسی میں لکھاے گئے حفیظ جالندھری کے ترانے کو قومی ترانے کا درجہ دیا گیا۔ بنگالیوں کا یہ مطالبہ بالکل درست تھا لیکن مسلم لیگ کی حکومت نے ان کے احتجاج کے جواب میں ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس سے بہت سے طالب علم ہلاک ہو گئے۔ یہی روش بعدمیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد بنی۔ یہاں بھی پاکستان کی حکومت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچھے اصل حقائق کی تحقیق کروا کر قوم کے سامنے پیش کرنے کی بجائے سارے بنگالیوں کو”غدار“ کا لقب دے دیا۔ حالانکہ اصل حقائق یہ تھے کہ عوامی لیگ کا لیڈر مجیب الرحمٰن پورے پاکستان کا اکثریتی لیڈر تھا۔جب اس کے پاس پورے پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا مینڈیٹ موجود تھا’تووہ کیونکر محض آدھے ملک کے اقتدار میں دلچسپی رکھتا؟ تاہم یہ حقیقت آج تک قوم سے چھپائی گئی ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کی محض وجہ بنگالیوں کو اقتدار میں نظر انداز کرنااوران کے اکثریتی لیڈرکو اقتدار منتقل نہ کرنا تھی۔سقوط مشرقی پاکستان پر حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ ابھی تک منظرعام پر نہیں آسکی۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ ایک بنگالی نے اس بات پر کہا تھا:”غداری مشرقی پاکستان والوں نے نہیں بلکہ مغربی پاکستان والوں نے بنگالیوں کے ساتھ کی“۔
پاکستان کا یوم آزادی منانے کا مقصد تو یہ ہونا چاہئیے کہ آنے والی نسلوں کو ان حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ تاکہ وہ آئندہ کیلئے اپنی ترقی کے اہداف مقرر کر سکیں۔ مگر افسوس کہ پاکستان کے حوالے سے درست تاریخ لوگوں کو نہ پڑھانے اور تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنے سے قوم ایک بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہی ہے۔ قوم کا نوجوان اپنا مستقبل پاکستان میں نہیں دیکھتا بلکہ ہر شخص ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کررہا ہے۔ ابوالکلام آزاد نے 1947ء میں کہاتھا کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان کے نوجوان پاکستان کے وجود پر سوال کریں گے۔ کیا وہ وقت آنہیں گیا جب ہر کوئی پاکستان کے وجود پر سوال اٹھا رہا ہے؟