ہم چھوٹے ہوتے تھے تو گجرات کے محلہ کھاری کھوئی میں ”غوری بک ڈپو“ کے نام سے کتابوں کی ایک دوکان ہوتی تھی۔ غوری صاحب ناک میں بولتے تھے مگران کی کتابیں بازار کی دیگر دوکانوں سے رعایت ہوتی تھیں۔ ہم کچھ جوان ہوئے تو غوری صاحب کی اچھی اور سبق آموز باتیں سننے کیلئے ان کی دوکان کے پھٹے پر بیٹھ جاتے۔ ایک دن غوری صاحب کہنے لگے کہ جب نبی ؐ اوران کے صحابہ کرام ؓلوگوں کو تبلیغ کرتے تھے ’تو لوگ ان پر تشدد کرتے تھے۔ لیکن آج اگر مولوی تبلیغ کرتے ہیں تو ان کو کوئی مارتا کیوں نہیں؟ ہم غوری صاحب کا سوال سن کر حیران رہ گئے۔پھر غوری صاحب نے خود ہی جواب دیا کہ یہ سامنے ماسٹر جھپٹی باجا بجا رہا ہے ’اسے جا کر منع کرواوراسے کہو کہ یہ کام شعائر اسلام کے خلاف ہے ’وہ باجا مار کر تمہارا سر پھاڑ دے گا۔ بات غوری صاحب کی بھی درست تھی کہ جن لوگوں کی روزی ہی باجا بجانے میں ہے اگر ان کو کوئی روکے گاتو وہ تو آگے سے اسے ماریں گے ہی ناں؟
یہ بات ذہن میں اس طرح آئی کہ چند دن قبل بھولے نے جمعہ کی نماز کے خطبے میں مولانا کا وعظ سنا کہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور لوگوں کو برائی کے اثرات سے خبردار کرے۔ تاکہ لوگ اس برائی کے اثرات سے بچ سکیں۔ بھولے کو مولوی صاحب کی بات بہت پسند آئی۔ چنانچہ اس نے معاشرے کی برائیوں کے بارے میں غور کرنا شروع کر دیا۔ تاہم اس کی حیرانی کی انتہاء نہ رہی کیونکہ اس نے اپنے اردگرد برائیوں کو ہی دیکھا’اچھائی اسے کوئی کوئی نظرآئی۔حتیٰ کے مولانا بھی وعظ تو سادگی کا کررہے تھے مگر خطبہ سے فارغ ہو کر وہ اپنے پچاس ہزارپونڈ ماالیت کی گاڑی میں بیٹھے اور شہر کے بہترین ہوٹل میں کھانا کھانے پہنچ گئے۔ بھولا اس بات پر غورکرنے لگا کہ لوگوں کو سادگی کا درس دے کر اورصوفیاء کے جھوٹے قصے سنا کر مولوی صاحب لوگوں کوتو دوزخ کی آگ سے ڈراتے رہے اور جنت کے فضائل گنواتے رہے مگر ان کا اپنا عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔
متلی بھی اس بات پر غور کرنے لگا کہ محفلوں میں تین تین سو اور چار چار سو پونڈکے سوٹ پہننا یہ خواتین کیسے افورڈ کرلیتی ہیں؟ ان کا ذریعہ آمدنی سوائے سوشل سیکیورٹی بینیفٹ کے کچھ بھی نہیں ہے اور زیادہ تر کے سروں پر ان کے شوہروں کاسایہ بھی نہیں ہے۔ آخر یہ لمبے لمبے ”کفتان“ کہاں سے خرید لیتی ہیں؟ متلی اس بات پر کافی دن غور کرتا رہا۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ ایک ایک کر کے وہ ان برائیوں کی اصلاح کرے گا۔چنانچہ اس نے ایک معاشرتی برائی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی تو کسی نے کان نہ دھرا۔ متلی کو مایوسی ہوئی۔وہ سمجھا کہ لوگ اپنے کاموں میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے سکیں۔ اس کی اس کاوش کوعوام کی طرف سے کوئی پذیرائی نہ ملی بلکہ الٹا خواتین اس کے خلاف ہوگئی۔ خاص طور پر”مس کفتان“ جو چار شادیاں کرنے کے باوجود خود کو”مس“ کہلوانا پسند کرتی ہے اورہر کسی کو بلاتے ہوئے ”بھائی“ کے لفظ پر زوردیتی ہے۔ وہ تومتلی کے اس قدرخلاف ہوگئی کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ آخر میں نے ایک برائی کی نشاندہی ہی تو کی ہے۔متلی اس بات پر کسی حد تک رنجیدہ ضرور ہوا کہ لوگ ایک معاشرتی بیماری پر کوئی مثبت جواب نہیں دے سکے۔ تاہم اسے حیرانی اس وقت ہوئی جب ”نام نہاد مس کفتان“نے متلی خان کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا۔ وہ کفتان پہن کر سڑک پر کھڑی ہوگئی اور تقریر کرنی شروع کر دی کہ متلی ا لوگوں کے کاروبار وں میں مداخلت کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی ناجائز ذریعے سے اپنے کمائی کر رہا ہے تو متلی کو کیا پڑی کہ وہ اس کے بارے میں لوگوں کو بتائے۔ اور تو اور”نام نہاد مس کفتان“نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ”دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈالو۔ناں کہ انہیں دنیا میں ا جاگر کر کے ”برائی“ پھیلاؤ۔ متلی یہ سب کچھ کر کے اپنے لئے دوزخ کما رہا ہے اور میں سب بہن بھائیوں کو خبردار کر تی ہوں کہ وہ متلی کے جھانسے میں آکر دوزخ میں نہ چلے جائیں۔ اس لئے متلی سے بچیں“۔ متلی اس بات پر سٹپٹا گیا۔
کوئی ایک ہفتے کے بعد کرم علی نے ایک محفل میں بات کی کہ غلام نبی فالودے والا سوشل سیکیورٹی بینیفٹ بھی لے رہا ہے اور ساتھ میں کام بھی کر رہا ہے۔ایک طرف تو غلام نبی فالودے والا پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے اوردوسری طرف وہ سرکار کو دھوکہ دے رہا ہے۔ چنانچہ اسے اس کام سے روکا جائے۔ کیونکہ غلاماں اپنے عمل سے پاکستان او راسلام کو بدنام کر رہا ہے۔ اگر اداروں کو علم ہو گیا تو وہ سارے مسلمانوں اور پاکستانیوں کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ تاہم ابھی کرم علی کے بات پوری طرحْ سے سنی بھی نہیں گئی تھی کہ پھتیں جو گرمی کی وجہ سے لمبا ڈریس پہنے ہوئے تھی نے کرم علی کی مخالفت شروع کر دی۔ پہلے پھتیں نے یہ کہا کہ اگر غلام نبی فالودے والا فراڈ کر رہا ہے تو وہ کرم علی کے باپ سے نہیں کر رہا۔بلکہ وہ یو کے کی گورنمنٹ کے ساتھ کر رہا ہے۔ کرم علی کوکیا تکلیف ہے۔ پھر وہ فراڈ کر رہا ہے تو کون سا کسی مسلمان کے ساتھ کر رہا ہے ’وہ تو گوروں کوہی لوٹ رہا ہے ناں۔اس نے تویہاں تک کہہ دیا کہ ”کافروں“ کے ساتھ فراڈ کرنااوران کو لوٹنا کار ثواب ہے۔ غلاماں یہ فراڈ کر کے ثواب کا کام کر رہا ہے۔ اور پھر اتنی رقم کے فراڈ سے کوروں کو کیا فرق پڑتا ہے۔ کرم علی ’غلام علی فالودے والے تہجد گزار شخص کے خلاف یہ الزام لگاکر اپنے لئے دوزخ کی آگ کا ایندھن اکٹھا کر رہا ہے۔
اتنی دیر میں حاجی نائی نے الزام لگادیا کہ ماثی ٹھنڈی جو آج کل مشاعروں کی جان بنی ہوئی ہے اور اپنا تازہ کلام ہر مشاعرے میں پیش کرتی ہے۔وہ بے ایمان ہے اور پیسے دے کر کلام پاکستان کے شعراء سے لکھواتی ہے۔ اس پر ماثی ٹھنڈی کی ساری سہیلیوں نے حاجی نائی کے خلاف اتحاد کر لیااورہر جگہ پر اس کی مخالفت کرنی شروع کر دی۔ برکتے توپھن نے تو یہ الزام بھی لگادیا کہ حاجی نائی جب دیگیں پکاتا ہے تواس میں دونمبر گرم مصالحہ ڈالتا ہے اورجب لوگوں کی شیو کرتا ہے تو کھونڈے استرے کے ساتھ کرتاہے نیز شیو نگ کریم اورپھٹکڑی بھی دونمبر استعمال کرتا ہے۔ اس پر اکرے ترکھان نے پوچھا کہ حاجی نائی پلاؤ کی دیگ میں تو وہی مصالحہ ڈالتا ہے جو اسے دیگ پکوانے والے لوگ دیتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ کوئی بھی اپنی دیگ میں نمبر دو مصالحہ ڈالتا ہی نہیں اور اگر کوئی ڈالتا بھی ہے تو اس میں حاجی نائی کا کیاقصور؟تاہم اس کے باوجود ماثی ٹھنڈی کے پیسوں سے ”چائے والا“ پرہر شام چائے پینے والی اس کی سہلیوں نے حاجی نائی کے خلاف ماثی ٹھنڈی کی چائے کا حق توادا کردیا مگر وہ حاجی نائی کے ساتھ انصاف نہ کر سکیں اورانہوں نے حاجی نائی کی مذمت شروع کر دی۔ خاص طور پر رکھی یاوی کا یہ فقرہ تو ہر کسی کو ذہن نشین ہوگیا کہ اگر ماثی ٹھنڈی کسی سے کلا م لکھواتی ہے تو اس کی حاجی کو کیا تکلیف ہے؟ کیا وہ حاجی نائی کے باپ کا کلام پڑھتی ہے۔ اگر اسے شوق ہے اور وہ کسی سے کلام لکھوا کر پڑھتی ہے تو اسے پڑھنے دیا جائے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے برطانیہ میں اردو شاعری کوفروغ دینے کا۔رکھی یاوی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ماثی ٹھنڈی کے پاس تو پیسے ہیں ’جو وہ خرچ کر کے کلام خرید رہی ہے۔ اگر حاجی نائی کے پاس پیسہ ہے تو وہ بھی ایسا کر کے دکھائے۔سنا ہے کہ اس کے بعد ماثی ٹھنڈی نے اپنی سہلیوں کو ”چائے والا“ سے پلائی جانے والی چائے کے ساتھ کیک اور سموسے بھی دینا شروع کر دئیے ہیں جبکہ رکھی یاوی کو تو اس نے چند دن پہلے ایک ریسٹورینٹ میں کھانے پر بھی بلایاہے۔
جی ہاں آج دنیا میں وہی صور ت پیدا ہوچکی ہے کہ برائی کو ایک صنعت کا درجہ مل گیا ہے۔ لوگ برائی کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اورا س کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ یقینا جو لوگ آج کے دور میں بھی برائی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں وہ اللہ کے رسول ؐ اور ان کے صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ اس میں خواہ بھولا ہو؛ حاجی نائی ہو؛کرم علی ہو یا کوئی اور وہ سب ایک نیک کام کر رہے ہیں جبکہ برائی کے ان کاموں کے جوا ز تلاش کرنے والے لوگ وہی کام کر رہے ہیں جو مکہ کے کافر کرتے تھے۔ وہ اگر مسلمانوں کو اذیتیں دیتے تھے تو اسی لئے کہ مسلمان انہیں برائیوں سے روکتے تھے۔
ایک زمانے میں صحافت کا معیار اول یہ ہوتا تھا کہ صحافی معاشرے کی برائیوں سے پردہ اٹھا کر انہیں بے نقاب کرتاتھا۔جو صحافی اس معاملے میں زیادہ نمایاں ہوتاتھا ’اسے زیادہ عزت دی جاتی تھی۔ اس کے اخبار کو لوگ خرید کر پڑھتے تھے اور اسے اشتہارات بھی دیتے تھے کہ وہ چونکہ سچ بولتا ہے ’چنانچہ کوئی امیر آدمی اس کی پشت پناہی بھی نہیں کرتا۔ اس لئے معاشرے کے ہر فرد اور ادارے کا کام ہے کہ اس کی مالی معاونت کرے۔پاکستان بننے کے بعد کچھ صحافیوں نے اس کام میں نام کمایا۔ جن میں میرے استاد آغاشورش کاشمیری اور مولانا ظفرعلی خان مرحوم کا نام سند کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے صحافی ایسے تھے جو منفی سرگرمیوں پر تنقید کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ صحافت کے تقاضے بھی بدلتے گئے۔صحافیوں کیلئے اخبارات کا چلانا مشکل ہوگیا۔ ایسے میں دو روپے روز کمانے والے صحافی کو دس روپے روزانہ پر جھوٹ بولنے کی نوکریاں دی گئیں تو صحافی ”خوشحال“ ہونا شروع ہوگئے۔
ہم ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو برائی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اوران سب کی بشمول ”مس کفتان“ کے شدید مذمت کرتے ہیں جو برائی کی ترغیب دیتی ہیں اور جھوٹی افواہیں پھیلاتی ہیں۔