صفدر ہمدانی (لندن )

عالم آرائی سے کالم آرائی تک

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ نام کا شخصیت پہ یا تو کوئی اثر نہیں ہوتا یا پھر اُلٹ اثر ہوتا ہے۔ ماں باپ نام تہور علی خان رکھتے ہیں اور موصوف بلی سے ڈرتے ہیں۔تا ہم ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے نام کی لاج رکھتے ہیں اور ہمارے سب کے پیارے محبوب الٰہی ایسے ہی گنتی کے لوگوں میں سے ایک ہیں۔ناموں کے حوالے سے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہمارے ہاں درست نام کو غلط پڑھنے کا بھی رواج عام ہے۔ جیسے غلامِ عباس کو غلام ِعباس پڑھا جائے گا جبکہ غلام کے نیچے زیر ہے وگرنہ معانی بالکل متضاد ہو جاتے ہیں۔ اپنے محبوبِ الٰہی کا بھی ننانوے فیصد سے زیادہ لوگ زیر کے بغیر محبوب – – الٰہی ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ برادر محبوبِ الٰہی کے اوصاف انہیں واقعی اس ذات باری تعالیٰ کا محبوب بناتے ہیں جو خالق کائنات ہے اور تخلیق کا اپنا یہ ذاتی وصف وہ اپنے منتخب اور چنیدہ ٹخلیق کاروں کو عطا کرتا ہے
برادر محبوبِ الٰہی شش جہت شخصیت اور ہمہ صفت موصوف ہیں اور انکی ذات کا بہترین پہلو دوسرے کی عزت کرنا ہے اور سیکھنے میں کسی قسم کی کوئی شرم نہ کرنا ہے اور اسی باعث وہ اپنے حلقوں میں ہی نہیں بلکہ اپنے مخالفین کے حلقوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں –
مجھے بالکل یہ علم نہیں کہ محبوبِ الٰہی نے اپنے ایک سو کالموں کے مجموعے پر رائے یا تبصرہ لکھنے کیلئے کیوں کہا ہے جبکہ نہ تو میں کوئی نامور اور مشہور انسان ہوں اور نہ ہی کوئی شاعر،ادیب، محقق یا نقاداور پھر یہ کہ کسی بھی تخلیق پر رائے دیتے ہوئے یہ فراموش کر دیتا ہوں کہ یہ تخلیق میرے کسی دوست یا عزیز کی ہے –
محبوبِ الٰہی کے کالموں کے اس مجموعے میں بقول انکے 100 کالم شامل ہیں تا ہم انہوں نے مجھے جو10 کالم ارسال کئے ہیں انکے مطالعے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ برادر عزیز کالم نگاری اور واقعہ نگاری کے درمیان واقعی فرق جانتے ہیں وگرنہ اس بے بصر عہد میں شاعری اور کالم نگاری کون ہے جو نہیں کرسکتا۔ میں ایک ایسے کالم نگار کو بھی جانتا ہوں جو کالم نگاری کو قالم نگاری لکھتا ہے جیسے آج کا مقبول اور معروف شاعر غزل کو ”گجل“ کہتا ہے-
نصراللہ خان اردو صحافت کی تاریخ میں ابن انشا ء کے بعد سب سے بڑے فکاہیہ کالم نگار شمار ہوتے ہیں ان سے صحافت کے استاد ڈاکٹر طاہر مسعود نے پوچھا کہ ایک اچھے کالم کی کیا پہچان ہے؟یعنی اس میں کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں؟
نصر اللہ خان نے جواب دیا کہ کالم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ آپ اس کے ذریعے ملک و قوم کے مسائل حل کرنے میں لوگوں کی اس طرح مدد کریں کہ وہ سوچنے سمجھنے اور کچھ کرنے پر تیار ہو جائیں۔ کالم کا طنز اتنا بھاری نہیں ہونا چاہئیے کہ پڑھنے والے کا ذہن بھاری ہو جائے بلکہ اسے بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ اداریے اور کالم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اداریہ ایک سیدھی چال ہے بلکہ کالم میں وہی باتیں ہوتی ہیں لیکن انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ یہ ایک ہلکی پھلکی مزہ دینے والی تحریر ہوتی ہے جس کا انداز یوں ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی کی چٹکیاں لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔ لطیفے اور الفاظ سے کھیلنا، کسی کی محرومی کا مذاق اڑانا، کالم نویسی کے احاطے میں آتا ہے اور نہ صحافت کے۔
عالی جناب نصر اللہ خان کا فرمایا ہوا پتھر پہ لکیر ہے اور اس معیار پر جب میں نے عزیزم محبوبِ الٰہی کے کالموں کو پرکھا تو نوے فیصد کامیاب پایا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے کسی روایتی کالم نگار کیلئے دوستی اور محبت کے ناطے کوئی چند توصیفی جملے نہیں لکھے ہیں بلکہ ایک صاحب طرز استاد کالم نگار کے معیار پر پورا اترنے والے کالم نگار کے منتخب کالموں پر اپنی طالب علمانہ رائے دی ہے۔
برادر عزیز محبوب ِ الٰہی کا ایک کالم ہے۔”صحافت اور مقدس گائیں۔۔۔اک مرد قلند نے کیا راز خودی فاش“۔میں نے یہ کالم ایک سے زیادہ بار پڑھا ہے اور میرے نزدیک یہ ان کے نمائندہ کالموں میں سے ایک ہے۔ اس کالم کا ایک اقتباس پڑھیئے اور حقیقی کالم نگاری کا لطف لیجئے-
”افتخار قیصر کے ساتھ ایک عرصے سے تعلق رہا ہے – صحافت سے لے کر ٹیکسی تک ہم ساتھ رہے لیکن اب چونکہ وہ جنگ اخبار کا ایڈیٹر بن گیا ہے اس لئے وہ ”بڑاآدمی“ ہے جہاں پرانی دوستی یا تعلق کی اہمیت کس حد تک ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا – کبھی تو جنگ لندن کمیونٹی کی صحافتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور آج برطانیہ میں مسئلہ کشمیر سے لے کر نسل پرستی تک کے معاملات پر پاکستانی یا یوں کہہ لیں کہ اردو پڑھنے والی کمیونٹی کے اندر کوئی شعور پایا جا تا ہے تواس کا کریڈٹ جن اخبارات کو جاتا ہے ان میں جنگ بھی شامل ہے- یہ الگ بات کہ پھر جنگ کی وہ روح رفتہ رفتہ مادیت پر ختم ہوئی اور جنگ لندن کی اہمیت تیسرے درجے سے بھی گر گئی – بھوکے نمائندے تنخواہ نہ ملنے پر بھکاریوں کی طرح لوگوں سے خیرات مانگنا شروع ہو گئے – خبریں بکنے لگیں اور جو کوئی خبر کے دام دیتا ہے وہ اپنی مرضی کی خبر بھی لگواتا ہے – ”پیر مغاں“ گداگر بن گئے – لوگوں کی توجہ ختم ہو گئی – تاہم افتخار قیصر نے اچانک روزنامہ جنگ لندن کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی تو اپنے تئیں برطانیہ کی اردو صحافت میں ایک انقلاب لانے کی کوشش کی اور جنگ لندن کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنا چاہی – جنگ فورم کا پھر سے آغاز ہوا اور اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی جدتیں پیدا کی گئیں جنہیں دانشور طبقے کی طرف سے سراہا گیا -ویسے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ افتخار قیصر زندگی بھر صحافت میں ”جدتیں“ ہی پیدا کرتے آئے ہیں جن کے انہیں ”ایوارڈ“ بھی ملے ہیں -ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ آخر چند سال قبل جنگ فورم بند کیوں کر دیا گیا تھا – یقینا کچھ شکایات ہوں گی ورنہ چلتے پھرتے ”کاروبار“ کو کون بند کرتا ہے – تاہم ایک بہت اچھا کام افتخار قیصر نے یہ کیا کہ انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ میر صحافت میر خلیل الرحمٰن مرحوم کے نقش قدم پر چلیں گے- میرصحافت فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے لندن میں جنگ پیسے کمانے کے لئے نہیں بلکہ قوم کی خدمت کے لئے قائم کیا ہے – کہتے ہیں کہ درخت کی جس شاخ پر پھل لگتا ہے وہ جھک جاتی ہے – افتخار قیصر صحافت اور دانشوری کے درخت کی وہ شاخ ہیں جو اپنی ”عاجزی“کے پھل سے مالا مال ہیں -وہ ہر دوسرے اخبار میں لکھنے والے صحافی کے گھر تک پہنچے اور اسے جنگ میں کام کرنے اور جنگ کے لئے اشتہار لانے کی ترغیب دی – ہم کمیشن کے معاملات پر بات کر کے جنگ کے ”اندرونی“ معاملات میں ”دخل اندازی“ نہیں کرنا چاہتے – ماضی میں صحافیوں کی بہبود کے لئے کی جانے والی اجتماعی کوششوں اور یونین سازی میں بھی افتخار قیصر ہمیشہ پیش پیش رہے -یہ الگ بات کہ لوگوں نے ان کے ”جذبے“ کی قدر نہیں کی – انہوں نے تیر کھا کر کمین گاہ کی طرف دیکھا تو انہیں اپنے ہی دوست نظر آ ئے جو کئی سال تک ان کے خرچے پر دارو پیتے رہے کہ ان کو پی جے اے کا صدر بنوائیں گے لیکن عین الیکشن سے چند دن قبل کراچی سے ایک فون آیا تو شیشے کے کمرے میں ایک اجلاس ہوا جس کے بعد ”منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے“ – سارے شراب پینے والے صحافی ایک ”صالح“ اور”نمازی“ ظہور نیازی کے گرویدہ ہو گئے اور افتخار قیصر کواس وقت علم ہوا جب ان کے کیمپ میں سوائے محبوب بٹ کے کوئی بھی نہ تھا- ظہور نیازی بلامقابلہ صدر بن گئے اور افتخار قیصر اپنی خواہش دل میں دبائے ہی رہ گئے – پھر کئی سال بعد دوبارہ صدارت کا خواب دیکھا تو انہی کے اخبار کے نمائندے عباس ملک ان سے بازی جیت کر لے گئے – میں اگر افتخار قیصر کی منفی اور مثبت ”خوبیوں“ پر لکھتا رہوں تو شاید یہ بذات خود ایک طویل مضمون بن جائے اس لئے ان کے بارے میں مزید کچھ کہے بغیر اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کیونکہ جب افتخار قیصر سے جنگ لندن کی ادارت واپس لے لی گئی تو بیچارے خود ہی ایک مثال بن گئے کہ جو ان کے سبو و جام اٹھاتے تھے انہوں نے فون بھی نہ سنے -۔۔۔۔۔۔۔۔“
دیکھا آپ نے کہ ایک کالم میں کتنے عالم سمو دیئے گئے ہیں اور یہی محبوبِ الٰہی کی خوبی ہے- میری دعا ہے کہ انکا قلم اسی طرح جوان رہے اور انکے افکار نمو پاتے رہیں۔ انکے