پریس کلب آف پاکستان یوکے کی طرف سے 28اکتوبر 2026 ء بروز بدھ شام کے چار بجے برنج لین مانچسٹرپر واقع ”ڈاھلیاکافی“ پر نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف ایک سیمینار رکھا ہوا ہے۔ یقینا نفرت پرمبنی جرائم جن کو HATE CRIMES بھی کہا جاتا ہے ’نے معاشرے میں بے انصافی اور ظلم و ناانصافی کو مضبو ط بنایا ہے اور اس کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ سیمینار دراصل نسلی اقلیتوں کو ہیٹ کرائمز کے خلاف آگاہی دینے نیز نسلی اقلیتوں کے افراد کو یہ تعلیم دینے کیلئے رکھا گیا ہے کہ وہ ان جرائم کا مقابلہ کیسے کریں اور اگر وہ کسی ہیٹ کرائم کا شکار ہوں تواس کی رپورٹ کیسے کریں اوراس کیلئے نفسیاتی اور روحانی مدد کہاں سے حاصل کریں۔ یقینا یہ ایک اچھا اقدام ہے اور برطانیہ کی اقلیتی کمیونٹی کو اس میں بھرپورشرکت کرنی چاہییے۔ راقم نے اس موضوع پر تحقیق کی تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آئیں:
جب تیسری دنیا سے لوگ بہتر مستقبل کیلئے نقل مکانی کر کے برطانیہ آئے توانہیں یہاں کی کمیونٹی نے خوش آمدید کہا۔امیگرنٹس نے بھی مقامی کمیونٹی کی توقعات کوپورا کرنے کیلئے ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ہر وہ کام کیا جو وہ کرسکتے تھے۔ جس کے بعد برطانیہ کی انڈسٹری میں پیدا ہونے والا خلاء پر ہونا شروع ہوگیا۔ دراصل برطانیہ سمیت یورپ کے مختلف ممالک کے زیادہ تر مرد دوسری جنگ عظیم میں مارے جا چکے تھے اور عورتیں سخت کام نہیں کر سکتی تھیں۔ تاہم امیگرنٹس نے سخت سے سخت کام کیا ا ورپیسے کمانے کی چکر میں چودہ چودہ اور سولہ سولہ گھنٹے روزانہ فیکٹریوں میں کام کر کے یہاں کی انڈسٹری کو چلایا۔ یوں امیگرنٹس کی شب وروز محنت سے برطانیہ نے ترقی کرنی شروع کر دی۔امیگرنٹس کے ابتدائی کئی سال بہت اچھے گزرے اور مقامی کمیونٹی نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا نیزان کو اپنا حصہ بنانے میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ابتدائی قوانین اتنے نرم تھے کہ پانچ سال تک اگر کوئی برطانیہ میں رہ لیتاتو اس کو اس ملک کی شہریت دے کر ہمیشہ کیلئے اپنا شہری بنا لیا جاتا۔ تاہم جب تارکین وطن نے برطانیہ میں دن رات محنت کر کے یہاں کی صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑ اکر دیا تو پھر یہاں پر کچھ نام نہاد دانشوروں نے انہی تارکین وطن میں کیڑے نکالنے شروع کر دئیے۔مقامی کمیونٹی کی اکثریت توآج بھی اس بات کی قائل ہے کہ تارکین وطن نے ہمارے ملک کو ترقی دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے؛ چنانچہ یہ ہمارا حصہ اورہمارے ملک کے شہری ہیں۔ تاہم ایک اقلیت ایسی بھی ہے جو ہر جرم اور ہر برائی کی جڑ امیگرنٹس کو قرار دیتی ہے۔ گونسل پرستی تو دنیا میں ہر دور میں رہی ہے۔ کبھی یہ کم اور کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے مگر نسل پرستی جسے دماغ کا خلل ہی کہا جاسکتا ہے کئی لوگوں میں ایک نفسیاتی بیماری بن کر سما جاتی ہے۔ ان لوگوں کے بہکاوے میں آکر کئی جذباتی لوگوں نے امیگرنٹس کے خلاف کاروائیاں شروع کردیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ یہ ہماری نوکریاں لے لیتے ہیں۔ یہ ہماری این ایچ ایس اور ہمارے بینیفٹس کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ یہ یہاں سے کما کر جائیدادیں اپنے آبائی ممالک میں بناتے ہیں۔ اس لئے ان کو یہاں سے باہر نکالا جائے۔یعنی نسل پرست یہ یکسر بھول گئے کہ یہ سب کچھ برطانیہ کو تارکین وطن کی محنت کی وجہ سے ہی ملا ہے۔ تاہم حکومت نے ان کی بات نہ مانی تو پھر انہوں نے تارکین وطن پر حملے شروع کر دئیے۔ 1981ء میں برطانیہ میں نسل پرستوں نے باقاعدہ اورمنظم انداز میں امیگرنٹس پر حملے کرکے حالات کو بگاڑ دیا۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ جب مقامی نسل پرستوں نے امیگرنٹس پرحملے شروع کرکے ان کا برطانیہ میں رہنا دوبھر کر دیا اور حکومت یہ بات اچھی طرح سے جانتی تھی کہ امیگرنٹس برطانوی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں؛ توانہوں نے نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کیلئے امیگرنٹس کے تحفظ کیلئے قوانین بھی بنانے شروع کردئیے۔راقم نے خود اس ملک میں رہ کر دیکھا ہے کہ جب کسی نسلی اقلیتی شخص کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی تھی تو پولیس مقدمہ تک درج نہیں کرتی تھی۔بلکہ پولیس والے شکایت کنندہ کو دھمکی آمیز انداز میں یہ کہتے تھے کہ یہ کیس تو تمہارے خلاف ہی بنتا ہے۔ اس پر جہاں نسلی اقلیتوں کے لوگوں میں ایک عدم تحفظ کااحساس بیدار ہوا ’وہیں ان کی یہ مجبوری بھی آڑے آتی کہ وہ اگراس ملک سے نکال دئیے گئے تو ان کا اپنے آبائی ملکوں میں استقبال تو نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے طوہاً وکرہاً اس سلوک کو بھی برداشت کر لیا۔ مگر جب تارکین وطن کی اگلی نسلیں اس ملک میں پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدوں پر پہنچیں اورانہوں نے اپنی بزنس ایمپائر بنا لیں تو پھر پولیس اور اداروں کیلئے کسی زیادتی کی شکل میں تارکین وطن کے ساتھ ناانصافی کرنا ممکن نہ رہا۔ تارکین وطن نے یہاں کی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور انتخابی عمل کے ذریعے منتخب اداروں میں پہنچے تو یہاں انہوں نے امن پسند نسلی برطانویوں کے ساتھ مل کر ایسے حالات پیدا کئے کہ پارلیمنٹ کو تارکین وطن کے تحفظ کیلئے ایسے قوانین بنانے پڑے جو ماضی میں نہیں تھے۔رفتہ رفتہ ان قوانین کی درجہ بندی ہونی شروع ہوگئی کیونکہ نسل پرستی کی بھی کئی قسمیں تھیں۔ چنانچہ مختلف جرائم کی درجہ بندیاں کی گئیں۔ تاکہ لوگوں کو معاشرے میں تحفظ دیا جا سکے۔
چند سال قبل ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا جس کا نام ہیٹ کرائم یعنی نفرت پر مبنی جرائم کا قانون رکھا گیا۔ قانون کی رو سے کوئی شخص مذہب’رنگ ’نسل یا اپنے جنسی رویے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی نفرت کا شکار ہوتا ہے تو اس کو ایک سنگین جرم قرار دیا گیا۔ ایسے جرم کا شکار ہونے والا شخص اس جرم کی رپورٹ مقامی پولیس کو کر سکتا ہے۔جس پر سخت ایکشن لیاجائے گا۔ پہلے پہل تو اپنی کمیونٹی کو یہ علم ہی نہ ہوا کہ ہیٹ کرائم کا یہ قانون ہے کیا۔ دوسری طرف ایسے جرائم کا شکار پاکستانی کمیونٹی نے اس طرف کوئی دھیان نہ دیا۔ یہاں لوگ آپس میں بیٹھ کر اپنے ساتھ ہونے والے نفرت پر مبنی جرائم پر بات چیت تو بڑے مزے لے کر سناتے مگر جب انہیں کوئی کہتا کہ یہ جرم تو بڑا سنگین ہے ’اس کی رپورٹ کردو’تو جواب میں وہ کہتے ”چھڈویار۔ یہ انگریزوں کا ملک ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم ان کے ملک میں رہتے ہوئے ’ان کے خلاف پنگا لیں“۔ جب کسی جرم کا شکار ہونے والے کسی شخص رویہ اس قدر بزدلانہ ہوتو پھر کون اس قانون سے فائدہ اٹھاسکتا ہے؟ دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ جن کمیونٹیوں کے خلاف نفرت آمیز جرائم ہو سکتے ہیں ان کو اس قانون اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے معلوما ت ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ پریس کلب آف پاکستان یوکے نے اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ یہ ضروری ہے کہ ان کمیونٹیوں کو ان جرائم کے حوالے سے تعلیم دی جائے۔ تاکہ ان کو یہ علم ہو سکے کہ ہیٹ کرائم کیا ہے؟ ہیٹ کرائم کا شکار ہونے پر کہاں شکایت کرنی ہے؟ ہیٹ کرائم کا شکار ہونے پر کون سے ادارے ہیں جو انسان کو نفسیاتی اور روحانی مدد فراہم کر سکتے ہیں؟ ہیٹ کرائم کے خلاف مختلف تنظیموں کے قیام کے راستے کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پریس کلب آف پاکستان یوکے نے ہیٹ کرائم کے خلاف سیمینار کا اہتمام کرکے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ تاہم یہ سیمینار اسی صورت میں کمیونٹی کامددگار ہو سکتا ہے جب اس کا شکار ہونے والے لوگ اس میں حصہ لیں گے۔ آج کل برطانیہ میں دائیں بازو کے لوگ امیگرنٹس کے خلاف جو کاروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے بعد تو نسلی اقلیتی کمیونٹی میں اتحاد کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ہم کمیونٹی پر زور دیتے ہیں کہ اس سیمینار میں ضرور شرکت کریں اور اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات پر مبنی سوال کر کے معلومات حاصل کریں۔ ہم اس سمینار کی مکمل حمائت کرتے ہیں اور پریس کلب آف پاکستان یوکے کی کمیونٹی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔